ذرائع کے مطابق پاکستانی و امریکی خفیہ اداروں کو الیاس کشمیری کی ہلاکت کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی اداروں نے گیلانی انتظامیہ کو اس بات سے آگاہ کیا کہ الیاس سے متعلق خبریں جھوٹ پر مبنی تھیں اور جس باغ میں اس کارروائی کے بعد 9 سے زائد میتوں کی وڈیو دکھائی گئی تھی وہ دشمنوں کو سراسر دھوکا دینے کی ایک کامیاب کوشش تھی،یہی وجہ ہے کہ کالعدم حرکتہ الجہاد الاسلامی کی جانب سے مذکورہ سربراہ کی نعش کی کوئی تصویر میڈیا پر جاری نہیں کی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے اس طرح حکمت عملی جنگی اصول ہے اس سے قبل 8فروری2010ء کو طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود کے مارے جانے کی بھی تصدیق کی گئی تھی تاہم 6 جنوری 2011ءکو اچانک منظر عام پر آئے اور خوست پر حملہ میں براہ راست شامل رہے۔
ڈان نیوز کو قبائلی علاقوں کے مکینوں سے ملنے والی اطلاعات میں اس بات کا بھی پتا چلا ہے کہ الیاس کشمیری پاک افغان سرحدی علاقے میں پوری طرح متحرک اور القاعدہ تھری ون تھری بریگیڈ کی کمانڈ کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستانی وزیرداخلہ رحمن ملک نے الیاس کشمیری کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی تاہم ان کا کہنا تھا ابتدائی انٹیلی جنس رپورٹ کے بعد واضح ثبوت کے لیے کائونٹر چیک کیا جارہا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…