تاجک حکومت کے اس نئے قانو ن کے تحت 18 سا ل سے کم عمر کسی بھی نو جو ان کو مسجد ، چر چ یا کسی بھی مذہبی عبادت گا ہ جا نے کی اجاز ت نہیں ہو گی ۔ حکو مت کے اس فیصلے کو مسلم لیڈروں سمیت عیسا ئی جما عتوں کی جانب سے بھی سخت تنقید کا نشا نہ بنا یا جا رہا ہے ، تا ہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کامقصد نو جو انوں میں بڑھتی ہو ئی مذہبی انتہا پسندی کو رو کنا ہے ۔
واضح رہے کہ تاجکستا ن کا سرکا ر ی طور پر کو ئی مذہب نہیں ہے لیکن یہاں کی90فیصد آ با دی مسلما نوں پر مشتمل ہے ۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام