اس موقع پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے واقعہ کی مکمل تحقیقات اپنی نگرانی میں کرانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ادارے کو گالی نہ دی جائے اور وزیراعظم کی درخواست پر اسپیکر نے قابل اعتراض جملے کارروائی سے حذف کرا دےئے۔ جبکہ صدر آصف زرداری نے بھی نوجوان کی ہلاکت کے واقعہ پر رحمن ملک سے رابطہ کیا اور قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔
قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ رینجر اہلکار نے کراچی میں ایک نوجوان کو بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باوردی رینجر اہلکار کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کو گولی مار دیں کل اس قسم کا کوئی اور واقعہ ملک کے کسی اور حصہ میں بھی رونما ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رینجر اہلکار کیخلاف دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور 30 دنوں میں فیصلہ کیا جائے۔ اس معاملے پر خواجہ سعد رفیق نے جارحانہ انداز میں قابل اعتراض جملے ادا کئے۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی تشویش کو نظر انداز نہ کیا جائے‘ اگر عام پاکستانی کا احترام نہیں ہو گا تو کسی ادارے کا بھی احترام نہیں ہو گا اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…