اس موقع پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے واقعہ کی مکمل تحقیقات اپنی نگرانی میں کرانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ادارے کو گالی نہ دی جائے اور وزیراعظم کی درخواست پر اسپیکر نے قابل اعتراض جملے کارروائی سے حذف کرا دےئے۔ جبکہ صدر آصف زرداری نے بھی نوجوان کی ہلاکت کے واقعہ پر رحمن ملک سے رابطہ کیا اور قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔
قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ رینجر اہلکار نے کراچی میں ایک نوجوان کو بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باوردی رینجر اہلکار کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کو گولی مار دیں کل اس قسم کا کوئی اور واقعہ ملک کے کسی اور حصہ میں بھی رونما ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رینجر اہلکار کیخلاف دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور 30 دنوں میں فیصلہ کیا جائے۔ اس معاملے پر خواجہ سعد رفیق نے جارحانہ انداز میں قابل اعتراض جملے ادا کئے۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی تشویش کو نظر انداز نہ کیا جائے‘ اگر عام پاکستانی کا احترام نہیں ہو گا تو کسی ادارے کا بھی احترام نہیں ہو گا اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام