فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ” اے ایف پی” کے مطابق “تغز” میں حکومت مخالف قبائلی جنگوٶں اور علی عبداللہ صالح کی فوجوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ تغز میں حکومت مخالف قبیلے کے سربراہ الشیخ حمد سعید المخلافی کا کہنا ہے کہ ان کے جنگجوٶں نے سرکاری فوج کو شدید مزاحمت کے بعد شہر سے باہر دھکیل دیا ہے۔ قبائلی رہ نما کا کہنا تھا کہ وہ سرکاری فوج کے خلاف سخت لڑائی لڑنے کے لیے تیار ہیں اور اب صدر صالح کی فوجوں کو شہر پر قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔
ادھر ملک کے جنوبی شہر زنجبار میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ صدر علی عبداللہ صالح کی فورسز القاعدہ سے شہر کا کنٹرول واپس لینے کے لئے مسلسل حملے کر رہی ہیں تاہم منگل کے روز ہونے والی لڑائی میں فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ منگل کو زنجبار میں القاعدہ اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم 09 فوجی اور چھے القاعدہ جنگجو مارے گئے تھے۔
درایں اثناء صنعاء میں برطانوی ہائی کمشن نے بتایا ہے کہ شاہی بحری دستے دو کشتیوں میں یمنی ساحل پر گشت کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یمن کے ساحل پر برطانوی بحریہ کے دو بحری جہازوں کو دیکھا گیا ہے جن پر کم سے کم 80 فوجی سوار تھے۔ برطانوی ہائی کمشن نے یہ نہیں بتایا کہ یہ فوجی یمن سے اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے آئے تھے یا ان کا مقصد سرکاری فوج کو جنگجوٶں کے خلاف کمک فراہم کرنا تھا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…