فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ” اے ایف پی” کے مطابق “تغز” میں حکومت مخالف قبائلی جنگوٶں اور علی عبداللہ صالح کی فوجوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ تغز میں حکومت مخالف قبیلے کے سربراہ الشیخ حمد سعید المخلافی کا کہنا ہے کہ ان کے جنگجوٶں نے سرکاری فوج کو شدید مزاحمت کے بعد شہر سے باہر دھکیل دیا ہے۔ قبائلی رہ نما کا کہنا تھا کہ وہ سرکاری فوج کے خلاف سخت لڑائی لڑنے کے لیے تیار ہیں اور اب صدر صالح کی فوجوں کو شہر پر قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔
ادھر ملک کے جنوبی شہر زنجبار میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ صدر علی عبداللہ صالح کی فورسز القاعدہ سے شہر کا کنٹرول واپس لینے کے لئے مسلسل حملے کر رہی ہیں تاہم منگل کے روز ہونے والی لڑائی میں فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ منگل کو زنجبار میں القاعدہ اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم 09 فوجی اور چھے القاعدہ جنگجو مارے گئے تھے۔
درایں اثناء صنعاء میں برطانوی ہائی کمشن نے بتایا ہے کہ شاہی بحری دستے دو کشتیوں میں یمنی ساحل پر گشت کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یمن کے ساحل پر برطانوی بحریہ کے دو بحری جہازوں کو دیکھا گیا ہے جن پر کم سے کم 80 فوجی سوار تھے۔ برطانوی ہائی کمشن نے یہ نہیں بتایا کہ یہ فوجی یمن سے اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے آئے تھے یا ان کا مقصد سرکاری فوج کو جنگجوٶں کے خلاف کمک فراہم کرنا تھا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام