Categories: مشرق وسطی

یمن کے دارالحکومت صنعا میں جھڑپیں جاری، 41 افراد ہلاک

صنعا(العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں) یمن کی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے طاقتور قبائلی سردار شیخ صادق الاحمر کے حامی جنگجوٶں اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے درمیان دارالحکومت صنعا میں منگل کی رات سے جاری جھڑپوں میں اکتالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک یورپی تھنک ٹینک نے پیشین گوئی کی ہے کہ یمنی صدر علی عبداللہ صالح کا رواں سال کے اختتام تک اقتدار میں رہنا مشکل ہے۔
شیخ صادق الاحمر کے وفادارقبائلیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان منگل کو جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جس کے ساتھ ہی فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی کا معاہدہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ صدر صالح کی حکومت نے شیخ احمر کے حامی جنگجوٶں پر جنگ بندی توڑنے کا الزام عاید کیا ہے۔
یمن کی وزارت دفاع کی نیوز ویب سائٹ 26 ستمبر ڈاٹ نیٹ نے اطلاع دی ہے کہ شیخ احمر کے قبیلے کے افراد نے حکمراں جنرل پیپلز کانگریس کے ہیڈکوارٹرز اور پانی کی سپلائی کے ذمے دارادارے کے مرکزی دفاتر پر قبضہ کر لیا ہے۔
لیکن شیخ احمر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر صالح کی فورسز نے پہلے حاشد قبائل کی فیڈریشن کے سربراہ کے کمپاٶنڈ پر فائرنگ کا آغاز کیا تھا۔ شیخ احمر نے گذشتہ جمعہ کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے تیس جنگجوٶں کی نمازجنازہ کے موقع پر کہا تھا کہ ”اس وقت صدر علی عبداللہ صالح اور ہمارے درمیان جنگ بندی جاری ہے.اگر صالح حکومت پُرامن انقلاب چاہتی ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں لیکن اگر وہ جنگ کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو ہم ان سے جنگ کے لیے بھی تیار ہیں”۔
صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے خلیج تعاون کونسل کے پیش کردہ انتقال اقتدار کے فارمولے پر دستخط کرنے سے انکار کے بعد یمن خانہ جنگی کی جانب گامزن ہے اور صنعا کے علاوہ دوسرے شہروں تعز، زنجبار اورملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں بھی حکومت مخالفین اورسکیورٹی فورسزکے درمیان مسلح جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
زنجبار میں مارچ میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوٶں کے ساتھ لڑائی کے بعد فوج کو وہاں سے ہٹا لیا گیا تھا۔اس کے بعد فوج نے شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ یمنی صدر یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ اگر انھوں نے اقتدار چھوڑا یا انھیں ہٹایا گیا تو القاعدہ ملک پر قبضہ کر لے گی جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ علی عبداللہ صالح اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے القاعدہ کا ہوا کھڑا کررہے ہیں اور وہ القاعدہ کے خطرے سے ڈرا کر دوسرے ممالک سے امداد حاصل کررہے ہیں۔
درایں اثناء ایک یورپی تھنک ٹینک نے پیشین گوئی کی ہے کہ صدر صالح کا 2011ء کے باقی مکمل عرصہ کے دوران اقتدار میں رہنا مشکل نظر آرہا ہے لیکن اگر وہ اقتدار سے چمٹے رہتے ہیں تو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
یورایشیا گروپ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ علی عبداللہ صالح کا اپنا اقتدار بچانا مشکل نظر آرہا ہے لیکن اب انھیں زبردستی اقتدار سے نکال باہر کرنے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔البتہ وہ کسی سیاسی معاہدے کے ذریعے بھی اقتدار چھوڑنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago