شام کی انسانی حقوق کی تنظیم کے سربراہ کورابی کے مطابق ہراک میں فوج کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے 9 شہریوں میں 3 ڈاکٹرز، ایک ڈینٹسٹ اور ایک 11 سالہ لڑکی بھی شامل ہیں۔
کورابی کا کہنا ہے اس ہفتے حکومت مخالف مطاہروں کو روکنے کیلئے ہراک میں ٹینکوں کو تعینات کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی وکیل رازان زیتونہ کا کہنا ہے کہ شام کے علاقے راستان میں حکومت مخالف مطاہروں کو روکنے کیلئے فوج تعینات کی گئی تھی اور فوج نے گزشتہ روز آپریشن میں شیلنگ سے 41 شہری ہلاک ہوگئے۔ ان ہلاک ہونیوالوں میں سے 5 افراد کو راستان میں ہی دفن کردیا گیا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان