شام کی انسانی حقوق کی تنظیم کے سربراہ کورابی کے مطابق ہراک میں فوج کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے 9 شہریوں میں 3 ڈاکٹرز، ایک ڈینٹسٹ اور ایک 11 سالہ لڑکی بھی شامل ہیں۔
کورابی کا کہنا ہے اس ہفتے حکومت مخالف مطاہروں کو روکنے کیلئے ہراک میں ٹینکوں کو تعینات کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی وکیل رازان زیتونہ کا کہنا ہے کہ شام کے علاقے راستان میں حکومت مخالف مطاہروں کو روکنے کیلئے فوج تعینات کی گئی تھی اور فوج نے گزشتہ روز آپریشن میں شیلنگ سے 41 شہری ہلاک ہوگئے۔ ان ہلاک ہونیوالوں میں سے 5 افراد کو راستان میں ہی دفن کردیا گیا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار