فاضل دارالعلوم دیوبند مولانا تاج محمد بزرگ زادہ

ایرانی بلوچستان کے مایہ ناز اور ممتاز عالم دین مولانا تاج محمد بزرگزادہ ولد اسماعیل کی پیدائش ۱۹۱۷ء میں ایرانی صوبہ بلوچستان کے علاقہ سرباز کے ایک گاؤں ’’نسکند‘‘ میں ہوئی۔

علمی اسفار:
مولانا تاج محمد دینی تعلیم کے حصول کیلیے ۱۹۲۶ء کو کراچی پہنچ گئے جہاں آپ (رح) نے کراچی کے علاقہ لیاری میں مدرسہ تعلیم الفرقان چاکیواڑہ میں قرآن پاک اور ابتدائی کتب کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آپ ’’مظہرالعلوم‘‘ کھڈہ تشریف لے گئے۔ مرحوم مولانا تاج محمد بزرگ زادہ نے چھ برس تک مظہرالعلوم کھڈہ میں تعلیم حاصل کی۔ اس دوران آپ نے اندرون سندھ مدرسہ پیر جھنڈا میں بھی فیض کسب کیا۔
اپنے عہد کے ممتاز دینی ادارہ مظہر العلوم میں مرحوم مولانا تاج محمد نے نامور اساتذہ سے استفادہ کیا جن میں مولانا محمد صادق اور حافظ فضل احمد رحمہما اللہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
مولانا کے علمی عطش نے انہیں تعلیم کی تکمیل کیلیے ایشیا کی ممتاز دانش گاہ اور تاریخی و عہدساز درس گاہ ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ پہنچایا۔ مولانا تاج محمد ۱۹۳۴ء میں دارالعلوم دیوبند پہنچ گئے جہاں آپ نے وقت کے مایہ ناز علماء و اساتذہ سے استفادہ کیا۔ شیخ العرب و العجم مولانا حسین احمد مدنی، شیخ الادب والفقہ مولانا اعزاز علی، حکیم الاسلام مولانا عبدالحق نافع گل اور مولانا عبدالخالق رحمہم اللہ جیسی عبقری شخصیات آپ کے اساتذہ تھے۔

تدریسی زندگی:
پاکستان کے وجود سے قبل ۱۹۴۶ء میں مولانا تاج محمد دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پاکستانی بلوچستان کے شہر پنجگور کی جانب روانہ ہوئے۔ آپ (رح) نے دو برس تک ’’خدا آبادان‘‘ بستی میں دینی تعلیم کی تدریس کی، اس کے بعد مظہر العلوم کھڈہ کراچی تشریف لے گئے جہاں آپ دو سال تک پڑھاتے رہے۔

مدرسہ ’’انزاء ‘‘ کی تاسیس:
اپنی ہی قوم کی خدمت کے شوق وجذبہ نے انہیں واپس وطن پہنچایا۔ مولانا تاج محمد ’’سرباز‘‘ کے گاؤں نسکند چلے گئے اور مولانا عبدالعزیز ملازادہ رحمہ اللہ کی دعوت پر مدرسہ عزیزیہ دپکور میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ جب یہ مدرسہ ’’انزاء‘‘ نامی گاؤں میں منتقل پوا تو آپ (رح) نے مولانا محمدعمر سربازی اور حاجی غلام محمد ملازئی سمیت عوام الناس کے تعاون سے اس مدرسے کی بنیاد رکھی اور مولانا عبدالعزیز(رح) کی زاہدان منتقلی کے بعد دینی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا۔

خدمات و تصانیف:
مولانا تاج محمد (رح) نے عوام کے شرعی مسائل کے حل اور تنازعات کے تصفیے میں پوری زندگی لگادی، اس کے علاوہ شرک وبدعات کے مظاہر کیخلاف جد وجہد کرتے رہے۔
آپ (رح) کی بعض فارسی تصانیف کے نام در ج ذیل ہیں: معراج جسمانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، راہ نجات، صراط مستقیم، رشحات بر مسائل زکات، مقام حضرت ابوبکر صدیق (رض)، آداب اسلامی در پرتو قرآن وسنت۔

سانحہ ارتحال:
مولانا تاج محمد (رح) نے ۶۹ برس تک تدریس، فتویٰ اور تبلیغ دین کے شعبوں میں شاندار خدمات سرانجام دینے کے بعد ۹۲ سال کی عمر میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ آپ (رح) کی وفات بلوچستان کے شہر ’’ایرانشہر‘‘ کے ایک اسپتال میں ۱۸ اپریل ۲۰۰۹ء کو واقع ہوئی۔ آپ کے جنازے میں عوام اور علماء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس سانحے پر اہل سنت ایران خاص کر بلوچستان کے عوام سخت غمزدہ ہوگئے جو دارالعلوم دیوبند کے ایک اور عظیم فاضل سے محروم ہوگئے۔
مولانا کے جسد خاکی ’’انزا‘‘ گاؤں میں دفنایا گیا۔
رحمہ اللہ رحمة واسعة و اسکنہ فسیح جناتہ

modiryat urdu

Recent Posts

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

1 day ago

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

1 day ago

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

3 days ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

3 days ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

1 week ago