تدریسی زندگی:
پاکستان کے وجود سے قبل ۱۹۴۶ء میں مولانا تاج محمد دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پاکستانی بلوچستان کے شہر پنجگور کی جانب روانہ ہوئے۔ آپ (رح) نے دو برس تک ’’خدا آبادان‘‘ بستی میں دینی تعلیم کی تدریس کی، اس کے بعد مظہر العلوم کھڈہ کراچی تشریف لے گئے جہاں آپ دو سال تک پڑھاتے رہے۔
مدرسہ ’’انزاء ‘‘ کی تاسیس:
اپنی ہی قوم کی خدمت کے شوق وجذبہ نے انہیں واپس وطن پہنچایا۔ مولانا تاج محمد ’’سرباز‘‘ کے گاؤں نسکند چلے گئے اور مولانا عبدالعزیز ملازادہ رحمہ اللہ کی دعوت پر مدرسہ عزیزیہ دپکور میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ جب یہ مدرسہ ’’انزاء‘‘ نامی گاؤں میں منتقل پوا تو آپ (رح) نے مولانا محمدعمر سربازی اور حاجی غلام محمد ملازئی سمیت عوام الناس کے تعاون سے اس مدرسے کی بنیاد رکھی اور مولانا عبدالعزیز(رح) کی زاہدان منتقلی کے بعد دینی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا۔
خدمات و تصانیف:
مولانا تاج محمد (رح) نے عوام کے شرعی مسائل کے حل اور تنازعات کے تصفیے میں پوری زندگی لگادی، اس کے علاوہ شرک وبدعات کے مظاہر کیخلاف جد وجہد کرتے رہے۔
آپ (رح) کی بعض فارسی تصانیف کے نام در ج ذیل ہیں: معراج جسمانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، راہ نجات، صراط مستقیم، رشحات بر مسائل زکات، مقام حضرت ابوبکر صدیق (رض)، آداب اسلامی در پرتو قرآن وسنت۔
سانحہ ارتحال:
مولانا تاج محمد (رح) نے ۶۹ برس تک تدریس، فتویٰ اور تبلیغ دین کے شعبوں میں شاندار خدمات سرانجام دینے کے بعد ۹۲ سال کی عمر میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ آپ (رح) کی وفات بلوچستان کے شہر ’’ایرانشہر‘‘ کے ایک اسپتال میں ۱۸ اپریل ۲۰۰۹ء کو واقع ہوئی۔ آپ کے جنازے میں عوام اور علماء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس سانحے پر اہل سنت ایران خاص کر بلوچستان کے عوام سخت غمزدہ ہوگئے جو دارالعلوم دیوبند کے ایک اور عظیم فاضل سے محروم ہوگئے۔
مولانا کے جسد خاکی ’’انزا‘‘ گاؤں میں دفنایا گیا۔
رحمہ اللہ رحمة واسعة و اسکنہ فسیح جناتہ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…