Categories: مشرق وسطی

عراقی سائنسدانوں اورڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ

بغداد(العربیہ۔نیٹ)عراق میں ڈاکٹروں اورسائنسدانوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ حکومت انہیں مناسب سکیورٹی مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
عراق پر مارچ 2003ء میں امریکا کی قیادت میں اتحادی فوجوں کے حملے کے بعد سے ایک منصوبہ بندی کے تحت پُراسرار انداز میں سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کو بم حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اب تک سیکڑوں محققین اور ڈاکٹروں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

بغداد کی جامعہ المستنصریہ کے شعبہ مالیکیولر تحقیق کے سربراہ زید عبدالمنعم عراقی سائنسدانوں میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے تازہ شکار ہیں۔ان کی کار پر 3اپریل کو نامعلوم افراد نے بم حملہ کیا تھا جس میں وہ جاں بحق ہو گئے تھے۔
ان سے قبل 29مارچ کو اسی جامعہ کے میڈیسن فیکلٹی کے ڈین اور بغداد کے معروف سرجن محمد علوان کو نشانہ بنایا گیا تھا حالانکہ ان کی یا ڈاکٹرزید کی کوئِی سیاسی وابستگی نہیں تھی۔
عراق کے معروف سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کی ہلاکت پر وائن اسٹیٹ یونیورسٹی مشی گن میں میڈیسن کے پروفیسر اور عراقی سائنسدان کی بین الاقوامی سوسائٹی کے سربراہ حکمت جمیل کا کہنا ہے”کوئی حکومت جو اپنے عوام کو تحفظ فراہم نہ کرسکے،اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے”۔
ڈاکٹر منعم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے ڈاکٹروں کی ہلاکتوں پرجامعہ المستنصریہ اور حکومت کو مذمتی خطوط لکھے ہیں”۔ برطانوی اخبار دی انڈی پینڈینٹ نے کچھ عرصہ قبل ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ”عراق پر امریکا کے حملے کے بعد سے سال 2006ء تک چارسو سات عراقی ماہرین تعلیم کو قتل کیا گیا تھا”۔
عراق کی فزیشن یونین کی رپورٹس کے مطابق ملک میں گذشتہ آٹھ سال کے دوران پانچ سو سے زیادہ میڈیکل پروفیشنلزکو قتل کیا جاچکا ہے اور سات ہزار سے زیادہ موت کی دھمکیوں کے بعد ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
عراقی سائنسدانوں کی ہلاکتوں کے بارے میں مختلف نقطہ نظر پائے جاتے ہیں اور مختلف کہانیاں گردش کررہی ہیں۔ان میں ایک نظریہ یہ ہے کہ اسرائیل کی بدنام زمانہ انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے ایجنٹ سائنسدانوں کو قتل کررہے ہیں۔ایک نظریہ یہ ہے کہ امریکی فوج عراقی سائنسدانوں کی ہلاکتوں کے بارے میں آگاہ ہے اور اس نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔
عراقی نژاد امریکی اور واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک ”فارن پالیسی ان فوکس” کے ایک سنئیر تجزیہ کار عادل ای شامو کا کہنا ہے کہ ”اب تک بہت سے شواہد سامنے آچکے ہیں جن کی بنیاد پر سائنسدانوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد پینل کے قیام کی ضرورت ہے۔عراقیوں ،امریکیوں اور دنیا کو سچ جاننے کی ضرورت ہے”۔
واضح رہے کہ 2003ء میں امریکا کی قیادت میں اتحادی فوج کی چڑھائی سے قبل صدام حسین کے دورحکومت میں عراق میں صحت کی سہولتیں اور ٹیکنالوجی دوسرے تمام خلیجی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ تھی اور دوسرے ممالک کے طلبہ بغداد کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے آتے رہتے تھے لیکن اب یہ سلسلہ رک چکا ہے۔
modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago