سنی اکثریت علاقے:
ترک اہل سنت کی تقریبا 5 فیصد آبادی درگز اور اس کی آس پاس بستیوں میں آباد ہے جبکہ شہر میں اب سات ہزار سنی افراد رہتے ہیں۔
قومی شاہراہ سے پچاس کلومیٹر دور ’’کلاتہ چنار‘‘ آتا ہے، اس گاؤں کے قریب پھر مزید چھ بستیاں ہیں، ان تمام بستیوں کی آبادیاں اہل سنت کے مسلک پر ہیں۔ یہاں موسم درمیانی اور پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑے درخت وجنگلات پائے جاتے ہیں۔ یہ علاقہ ترکمانستان کے دارالحکومت ’’عشق آباد‘‘ کے قریب میں ہے چنانچہ رات کی تاریکی میں عشق آباد شہر کی روشنیاں اونچے مقامات سے نظر آتی ہیں۔
مذکورہ بالا بستیوں سے 35 کلومیٹر دور سنی مسلمانوں کی بعض اور بستیاں آباد ہیں، جیسا کہ شیخھا وتکن، سنگ سوراخ اور شیخ وانلوا، یہ بستیاں ایک نہر کے کنارے پر واقع ہیں اور اکثر لوگوں کا ذریعہ معاش کیتھے باڑی ہے۔
’’درگز‘‘ سے 12 کلومیٹر دور ’’نوخندان‘‘ سٹی آتا ہے جس میں 200 سنی افراد رہائش پذیر ہیں، ان کی ایک جامع مسجد بھی ہے جہاں جمعے کی نماز ادا کی جاتی ہے۔
درگز میں اہل سنت کی صرف ایک مسجد ہے حالانکہ سنیوں کے چارسو خاندان اس شہر میں آباد ہیں۔ سنیوں کی دیگر بستیوں میں چقر، گل خندان، خیر آباد، میرقلعہ اور لطف آباد سٹی کا نام قابل ذکر ہے۔
جہاں تک مساجد کی بات ہے تو بعض علاقوں میں اہل سنت کی اپنی مسجدیں ہیں جبکہ بعض جگہوں پر سنی مسلمان ’’امام بارگاہوں‘‘ میں نماز پڑھنے پر مجبور ہیں۔
یہ بات قابل تذکرہ ہے کہ اس پورے خطے میں صرف پانچ سنی علماء رہتے ہیں، یہاں بعض ایسے علاقے بھی ہیں جہاں چالیس یا پچاس سالوں سے کوئی عالم دین نہیں رہ چکا ہے مگر یہ کہ تبلیغی جماعت کے کارکن یا دینی مدارس کے طلباء جو رمضان المبارک میں امامت و تبلیغ کے لیے ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
ابھی تک اس خطے کی دینی تربیت و ترقی کیلیے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوئی ہے۔
’’درگز‘‘ کے ترکمانستان کے ساتھ مشترکہ بارڈر 155 کلومیٹر پر محیط ہے اور روزانہ ساٹھ یا ستر تجارتی ٹرک اور سرف گاڑیاں سرحد پار کرتی ہیں۔
اس علاقے میں آباد لوگ ترک، کرد، زابلی اور یزدی ہیں اور اکثر ترکی، کردی اور فارسی بولتے ہیں۔ درگز کے آس پاس تیس بلوچ خاندان بھی آباد ہیں جو زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت سے دوری کی وجہ سے بلوچی زبان بھول چکے ہیں۔
اللہ تعالی اس خطے سمیت تمام علاقوں کو ظاہری ومعنوی ترقی سے مالا مال کرے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…