Categories: مشرق وسطی

شامی صدراسد کو بحران کا سامنا،سرکاری عمارتیں نذر آتش

دمشق(العربیہ۔نیٹ،ایجنسیاں)شام کے صدر بشارالاسد کو اپنے گیارہ سالہ دورحکمرانی میں پہلی مرتبہ شدید بحران کا سامنا ہے۔ان کے ماتحت ایک شہراس وقت حکومت مخالف مظاہرین کے قبضے میں ہے جبکہ پُرتشدد احتجاج کی لہر متعدد شہروں اورقصبوں تک پھیل چکی ہے۔

جنوبی شہر درعا میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران حکومت مخالف احتجاج کے دوران متعدد افراد مارے گئے ہیں اور ان میں سے ایک کی ہفتے کے روز نمازجنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔انہوں نے حکمران بعث پارٹی کے دفاتر اور ایک پولیس اسٹیشن کو نذرآتش کردیا۔
درعا میں گذشتہ روز مظاہرین نے شام کے مرحوم صدر حافظ الاسد کے ایک مجسمے کو بھی اکھاڑ پھینکا تھا اور یہ منظر 2003ء میں عراق کے سابق صدر صدام حسین کے بغداد میں نصب مجسمے کی عراقیوں کے ہاتھوں تباہی سے مشابہ نظر آیا۔ مظاہرین نے ایک ہی تحریر والا پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ وہ حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق درعا کے قریب واقع قصبے طفاس میں بھی گذشتہ روز درعا میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے ایک شہری کمال بردان کے جنازے میں شریک افراد نے بعث پارٹی کی عمارت اور ایک پولیس اسٹیشن کو نذرآتش کردیا۔
دارالحکومت دمشق اور شمالی شہر حمہ میں بھی حکومت کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔حمہ شہر میں بشار الاسد کے والد حافظ الاسد کے دورحکومت میں 1982ء میں شامی سکیورٹی فورسز نے ایک کریک ڈاٶن کارروائی کے دوران ہزاروں افراد کو ہلاک کردیا تھا اور اخوان المسلمون کی مبینہ مسلح بغاوت کو کچلنے کے لیے شہر کے قدیمی علاقے میں موجود عمارتوں کو زمین بوس کردیا تھا۔
اس دوران انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک وکیل نے بتایا ہے کہ شامی حکومت نے دوسوساٹھ قیدیوں کو ان کی قید کی ایک تہائی مدت پوری ہونے کے بعد جیلوں سے رہا کردیا ہے۔ان میں زیادہ تر اسلام پسند شامل ہیں۔
جنوبی شہر درعا میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کےدرمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک اوربیسیوں زخمی ہو گئے ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق کم سے کم ایک سو افراد مارے گئے۔جمعہ کو بیس زیادہ افراد کی ہلاکتوں کی اطلاع منظر عام پر آئی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران درعا میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے افراد کی تعداد پچپن بتائی ہے۔درعا میں ہفتے کے روز دکانیں دوبارہ کھل گئی ہیں لیکن سکیورٹی فورسز کے اہلکار نظر نہیں آئے۔
شام میں سکیورٹی فورسز کا سخت کنٹرول ہے اور اس عرب ملک میں چند ماہ قبل تک اس طرح کے حکومت مخالف مظاہروں کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا لیکن تیونس،مصر،لیبیا اوریمن کے بعد اب شام میں بھی حکومت مخالف تحریک زورپکڑتی جارہی ہے۔شام میں مظاہرے اسکول کے دس پندرہ بچوں کی گرفتاری کے بعد شروع ہوئے تھے۔ان بچوں نے دوسرے عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے جمہوریت نوازوں سے متاثر ہوکر جمہوریت کے حق میں نعرے لکھے تھے اور پولیس انہیں اسی جرم میں پکڑ کر لے گئی تھی۔
اردن کی سرحد کے نزدیک واقع شہر درعا میں مظاہرین کے خلاف پُرتشدد کریک ڈاون کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ شامی سکیورٹی فورسز مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کا سلسلہ فوری طور پر بند کردیں۔
گذشتہ روزشام کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور انہوں نے حکومت کے لاٹھی بردار حامیوں اور سکیورٹی فورسز کی پُرتشدد کارروائیوں کے باوجود جلوسوں میں شرکت کی ۔ مظاہرین ملک میں سیاسی آزادیوں اور بدعنوانیوں کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔انہوں نے صدر بشارالاسد کے خاندان پر بدعنوانیوں کے الزامات عاید کیے ہیں۔
modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago