منگل اوربدھ کی درمیانی شب ایک بجکر23منٹ پر آنے والے زلزلے نے پاکستان کے بڑے حصے کو بلاکر رکھ دیا، سندھ ، بلوچستان اور پنجاب میں زلزلے کے جھٹکے آئی، اس کے علاوہ مغرب میں دبئی سے لے کر مشرق میں دہلی تک جھٹکے محسوس کیے گئے۔

امریکی ادارے کے مطابق اس زلزلے کی شدت 7.4درجے تھی جو نہایت تباہ کن ہے ، لیکن یہ اللہ کا کرم ہے کہ کوئی بڑا جانی ومالی نقصان نہیں ہوا ورنہ اس شدت سے تو زمین الٹ پلٹ جاتی ہے اور عمارتیں زمین بوس ہوجاتی ہیں، 2005ءمیں صوبہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں جو تباہ کن زلزلہ آیا تھا اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6تھی، اس کی تباہی کے اثرات اب تک موجود ہیں۔
زلزلے کا مرکز دالبندین سے 55کلو میٹر مغرب میں تھا۔ جہاں جہاں زلزلہ محسوس کیا گیا وہاں خوف وہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ پڑھتے ہوئے اپنے گھروں سے نکل آئے۔
ایسے میں سب ہی کو خدا یاد آجاتا ہے اور جب مصیبت ٹل جاتی ہے تو ہر ایک اپنے معمولات میں مصروف ہوجاتا ہے۔
کراچی کے کئی علاقے زلزلے کی پٹی پر ہیں جہاں کئی کئی منزلہ عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں اور وہاں زلزلے یا کسی اور آفت ارضی وسماوی سے تحفظ کے انتظامات نہیں ہیں، بلوچستان ماضی میں تباہ کن زلزلے کا شکار ہو چکا ہے۔ قیام پاکستان سے پہلی1935میں کوئٹہ میں خوف ناک زلزلہ آیا تھا جس میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ اس کے بعد برطانوی حکومت نے لازم کردیا تھا کہ بلوچستان خاص طورپر کوئٹہ ، زیارت، پشین وغیرہ میں ایسی عمارتیں بنائی جائیں جو زلزلے کے جھٹکے سہہ سکیں اور تعمیرات میں لکڑی کا زیادہ استعمال کیاجائے تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔ لیکن انسان بہت جلد ان باتوں کو بھلادیتا ہے اور خسارے میں رہتا ہے۔ یہ پابندی آہستہ آہستہ نظر انداز کردی گئی۔
کراچی کا علاقہ گلستان جوہر زلزلے کی پٹی (فالٹ لائن) پر ہے لیکن وہاں فلیٹوں کا جنگل اگا دیا گیا ہے۔ کئی کئی منزلہ عمارتیں ہیں اور ایسی کہ جہاں کسی ہنگامی صورتحال میں امدادی سرگرمیاں بھی ممکن نہیں، انتظامیہ کے علم میں یہ بات ہے کہ گلستان جوہر اور کلفٹن وغیرہ کے علاقے فالٹ لائن پر ہیں لیکن پیسے لے کر بلند وبالا عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دے دی گئی۔ ایسی عمارتیں بھی ہیں جہاں ضرورت کے وقت فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی داخل نہیں ہوسکتیں، خدا نہ کرے اگر زلزلے کا کوئی بڑا جھٹکا آگیا تو بڑی تباہی پھیلے گی۔
یہ تو اللہ کا اپنے بندوں پر کرم ہے کہ بدھ کو علی الصبح آنے والے زلزلے سے بلوچستان میں دو خواتین کی ہلاکت کی اطلاع ہے اور کراچی کے علاقہ لیاقت آباد میں ایک تین منزلہ عمارت صرف ٹیڑھی ہوئی ہی، یہ اللہ رب العزت کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے انتباہ ہے وہ قادر مطلق جب چاہے بستیوں کی بستیاں الٹ کر رکھ دیتا ہے۔
جس معاشرے میں اس کے احکامات پر عمل نہیں ہوتا اور اس کے بندے فسق وفجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہاں آفات اس طرح نازل ہوتی ہیں جیسے تسبیح کا دھاگا ٹوٹ جانے سے دانے ایک ایک ایک کرکے گرتے ہیں۔
پاکستان میں اوپر سے نیچے تک شرعی احکامات کا جس طرح کھلم کھلا مذاق بنایا جارہا ہے ، توہین رسالت کا ارتکاب ہورہا ہے، یہ اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ یہ جھٹکا ایک انتباہ ہے۔

(بہ شکریہ اداریہ جسارت)
modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago