تحریک نہضہ اسلامی کیا ہے؟
تیونس میں “نہضہ اسلامی” کے نام سے تنظیم کا قیام سنہ 60ء کی دہائی میں اس وقت عمل میں لایا گیا جب تیونس کے اسلام پسند طلباء نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ایک تنظیم کے قیام کی بنیاد رکھی۔ حال ہی میں سبکدوش صدر زین العابدین کے دور سے قبل تنظیم کا نام “الاتجاہ الاسلامی” تھا تاہم صدر العابدین کی جانب سے پابندیوں کے بعد تنظیم کی قیادت نے نہضہ اسلامی کے نام سے دوبارہ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔
اوائل میں یہ صرف ایک طلبہ تنظیم تھی جو مصر کی اخوان المسلمون سے متاثر ہوئی۔ اسی تاثیر کے نتیجے میں “الاتجاہ الاسلامی” کو اخوان المسلمون کے بین الاقوامی شاخ میں ضم بھی کیا گیا۔ تیونس میں اسلامی سیاسی جماعتوں کے امور کے ماہر اور ڈیموکریٹک ڈویلپمنٹ پارٹی کے رہ نما محمد القومانی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نہضہ اسلامی خود کو آئینی دائرے میں لانے کے لیے طویل جنگ لڑتی رہی ہے، کبھی اس کی قیادت نے تنظیم کے جوہری افکار و نظریات میں تبدیلی کی اور کہیں نام تبدیل کر کے اس کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ شروع میں تنظیم سے وابستہ قیادت اخوان المسلمون سے متاثر تھی، تاہم سنہ 1979ء میں ایران میں امام خمینی کے انقلاب نے بھی تنظیم کے افکار پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
ایک دوسرے سوال پر القومانی نے کہا کہ نہضہ اسلامی کو تیونس میں سیاسی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز پر کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔ ایک جانب تنظیم کو خود عوام میں متعارف کرانے کے لیے نئے سرے سے مہم چلانا ہوگی دوسری جانب اپنے مد مقابل سلفی مذہبی گروپ سے بھی مقابلہ کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ تنظیم کے لیے ایک مشکل ملک میں موجود لبرل طبقہ اور سابق صدر العابدین کے حامی بھی ہیں۔ وہ طبقہ بھی اپنے تئیں نہضہ کی سرگرمیوں میں رکاوٹ بنے گا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحریک نہضہ کی قیادت نے میڈیا کی حدتک خود کو فعال کرنا شروع کر دیا ہے۔ تنظیم کے جلا وطن لیڈر راشد الغنوشی سمیت چوٹی کے دیگر رہ نما یہ تاثر دے چکے ہیں کہ وہ ملک میں قانون ، شہری آزادیوں اور جمہوریت کا احترام کریں گے اور انتخابات میں جمہور ی طریقے سے کامیاب ہونے والے گروپوں کی حمایت کی جائے گی۔
راشد الغنوشی پر ایک نظر
نہضہ اسلامی کے سربراہ الشیخ راشد الغنوشی سنہ 1941ء میں تیونس کے جنوب میں قصبہ حامہ قابس میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی۔ اس کے بعد وہ مثیلبہ میں ایک دینی درسگاہ میں داخل ہوئے جہاں سے سند فراغت کے بعد انہوں نے دارالحکومت تیونس میں مدرسہ خلدونیہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینا شروع کیے۔ سنہ 1964ء میں فلسفے کی اعلیٰ تعلیم کے لیے دمشق چلے گئے جہاں سنہ 1968ء میں انہوں نے فلسفے میں میڈل حاصل کیا۔ بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے کچھ عرصہ فرانس میں گذارا اور سنہ 1970ء میں دوبارہ وطن واپس آکر مختلف درسگاہوں میں تدریسی ذمہ داریاں سنھبالیں۔
سنہ 1981ء میں عبدالفتاح مورو کے ساتھ مل کر “تحریک اتجاہ الاسلامی” کے نام سے تنظیم قائم کی۔ جماعت کی تاسیس کے بعد اسے آئینی شکل دینے اور حکومتی منظوری کے لیے وزیر داخلہ کو درخواست دی گئی تاہم انہوں نے کوئی جواب دینے سے انکار کر دیا۔
جولائی سنہ 1981ء میں الغنوشی کو دیگر ساتھیوں سمیت ایک غیر قانونی تنظیم کے قیام کی پاداش میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ تاہم حراست کے تین سال بعد صدر الغزالی کی سفارش پرانہیں رہا کردیا گیا۔ اگست 1987ء کو انہیں دوبارہ حراست میں لیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے دارالحکومت تیونس میں چار ہوٹلوں کو بم دھماکوں سے اڑانے کی کوشش کی تھی۔
سنہ 1988ء میں صدر زین العابدین کی سفارش پر انہیں اس شرط پر رہا کیا گیا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ملک چھوڑ دے گی۔ تاہم ان کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں عدالت میں مقدمہ چلتا رہا۔ پارٹی کی بیشتر قیادت تیونس سے جلاوطن ہو کر مختلف ممالک میں چلی گئی اور راشد الغنوشی برطانیا چلے گئے۔ ان کی عدم موجودگی میں تیونس کی ایک عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا کا بھی حکم سنا رکھا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…