1۔ مسلمان غریب ہوں یا امیر، انکی جان و مال کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے گا اور جہاں وہ رہنا چاہیں گے خواہ شہر کے اندر یا باہر انہیں رہنے کی اجازت دی جائیگی۔
2۔ ابو عبداللہ اپنے عہدیداروں اور شہریوں سمیت بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کی وفاداری کا حلف اٹھائے گا۔
3۔ مسلمانوں کے مذہبی امور میں عیسائی دخل نہیں دینگےاور مذہبی فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی مزاحمت نہیں کرینگے۔
4۔ تمام مسلمان قیدی آذاد کر دیئے جائیں گے۔
5۔ کوئی عیسائی مسجد میں گھسنے نہیں دیا جائیگا۔
6۔ نومسلم اپنے آبائی مذہب کو اختیار نہ کر سکیں گے۔
7۔ مساجد اور اوقاف بدستور قائم رہیں گے، ان امور میں عیسائی دست اندازی نہ کریں گے۔
8۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین مقدمات ایک مخلوط عدالت کرے گی۔
9۔ مسلمانوں کے معاملات میں شرع اور ان ہی کے قوانین کی پابندی کی جائیگی۔
10۔ اس جنگ میں جن مسلمانوں کو عیسائیوں نے گرفتار کیا ہے، وہ فورا رہا کر دیئے جائیں گے اورجو مسلمان عیسائیوں کی قید سے شہر میں آجائے وہ گرفتار نہ کیے جائیں گے۔
11۔ کوئی مسلمان اندلس سے افریقہ جانا چاہے تو اسکی اجازت دی جائیگی، لیکن ایک مقررہ مدت میں اندلس چھوڑ سکتے ہیں۔
12۔ جو عیسائی مسلمان ہو چکے ہیں وہ اسلام ترک کرنے پر مجبور نہ کیے جائیں گے۔ اگر کوئی مسلمان عیسائی ہونا چاہے تو اس کی اجازت دی جائیگی۔
13۔ جو مال غنیمت مسلمانوں کے قبضے میں آیا ہے وہ بدستور ان کے قبضے میں رہے گا۔
14۔ مسلمانوں کے گھروں میں عیسائی سپاہ متعین نہیں کی جائیگی۔
15۔ موجودہ ٹیکس کے علاوہ مزید ٹیکس مسلمانوں پر نہیں لگائے جائینگے۔
16۔ 3 سال تک مسلمانوں سے کسی قسم کا ٹیکس نہ لیا جائے۔
17۔ سلطان ابو عبداللہ کے سپرد ابشارة کی حکومت کر دی جائیگی۔
18۔ 60 دن کے اندر معاہدے کی تمام شرائط کی تکمیل کر دی جائیگی۔
19۔ معاہدے کا اثر قائم رکھنے اور عیسائیوں کو اسکی پابندی پر مجبور کرنے کی غرض سے رومی پوپ کے دستخط اس معاہدے پر لئے جائیں گےاور وہی اسکی تعمیل کا ذمہ دار ہو گا۔ مسلمانوں پر سوائے عیسائی حاکم کے کوئی اور حاکم نہ ہو گا۔
20۔ 60 دن کے اندر شہرغرناطہ اور قلعہ الحمرا اور تمام سامان جبگ جو اس وقت قلعہ میں موجود ہے، عیسائیوں کے قبضے میں دیدیا جائیگا۔
یہ تھیں ، وہ شرائط جو ابو عبداللہ کی غداری کے نتیجے میں طے ہوئیں، ان شرائط میں بظاہر مسلمانان اندلس کی جان، مال، عزت و آبرواور عبادت گاہوں کی حفاظت کی پوری طرح ضمانت بھی دی گئی تھی، لیکن کچھ عرصے کے بعد اس معاہدے کی شرائط ایک ایک کر کے کالعدم ہونے لگیں، اور مسلمان جو ابو عبداللہ کے ہاتھوں پہلے ہی زخم خوردہ اور تباہ حال تھےاب رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی۔
غرناطہ جو مسلمانوں کا آخری حصار تھاوہ بھی ٹوٹ گیا اور یہ آخری پناہ گاہ بھی عیسائیوں کے قبضے میں چلی گئی، ابو عبداللہ نے اس خوف کے سبب کہیں اہل شہر کے ساتھ ساتھ وہ بھی فرڈیننڈ کی فوج کے ظلم و ستم کا نشانہ نہ بن جائے معاہدے کے مطابق 90 دن کے بجائے 60 دن قبل ہی قصر الحمرا فرڈیننڈ کے حوالے کر دیا، عیسائیوں نے الحمرا پر قابض ہو کر معاہدے کی تمام شرائط کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا….
مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو غرض کچھ بھی سلامت نہ رہی….
عیسائی، صلیبی دہشت گرد بنکر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے….
تبدیلی مذہب کا ایک حکم جاری کیا گیا جس کے تحت حکم دیا گیا کہ ہر شخص جو مسلمان ہے وہ عیسائیت قبول کر لے ورنہ قتل کر دیا جائیگا، اس حکم کے ذریعے بے شمار لوگ زبرستی عیسائی بنائے گئے، نو مسلم خاندان بھی انکی زیادتیوں سے محفوظ نہ رہے، ہزاروں لوگوں کو سولی پر لٹکا دیا گیا اور قیدی بنا لیا گیا، مدارس میں بچوں کو عیسائیت کی تعلیم دی جانے لگی، صرف ایک دن میں 3 ہزار مسلمانوں کو جبری عیسائی بنایا گیا، کچھ عرصے بعد اعلان ہوا کہ مسلمان اپنے لباس چھوڑ کر مسیحی لباس پہنیں، نہ صرف لباس بلکہ رسم و رواج، طور طریقے، اور زبان بھی ترک کر کے اپنے نام تک بدل ڈالنے پر مجبور کیا گیا۔
ان وحشی درندوں نے نہ عورتوں کو چھوڑا نہ بچوں پر رحم کھایا اور نہ ہی مسلمانوں کے مذہبی مقامات کے تقدس کو قائم رکھاجس کا وعدہ انہوں نے صلح کی ایک شرط کے ذریعے کیا تھا، مسجدوں کو گھورڑوں کا اصطبل بنا دیا گیا، ایک مسجد کو بارود سے اڑا دیا جس میں ہزاروں مسلمان مرد، عورتیں اور بچے پناہ لیے ہوئے تھے، غرض مسلمانوں پر مظالم کی انتہا جاری تھی، عیسائی صلح کی تمام شرائط فراموش کر کے بد عہدی کی بدترین مثال پیش کر رہے تھے جو اندلس کے تمام مسلمانوں کیلیے ناقابل برداشت بن چکا تھا، کچھ مسلمانوں نے مزاحمت کی کوشش کی جنہیں سختی سے کچل دیا گیا، اس مزاحمت کے بعد مظالم میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا، ابشاراة میں ابو عبداللہ کے تمام خاندان کو قتل کر دیا گیا، اور اس علاقے کو مسلمانوں کا مذبح خانہ بنا دیا گیا جہاں مسلمانوں کو قربانی کے جانوروں کی طرح ذبح کر کے تماشہ دیکھا جاتا۔
ان مظالم کے بعد 1611ءمیں یہ فیصلہ بھی ہو گیا کہ تمام مسلمانوں کو یا تو عیسائی بنا دیا جائے یا ان کو اندلس سے نکال دیا جائے، چنانچہ 2 ہی سال میں اخراج کا قانون منظور ہوا، اور اس پر فوری عملدرآمد کر کے لاکھوں مسلمانوں کو اندلس سے نکال دیا گیا۔ انہیں نکالتے وقت بھی عیسائی صلیبی دہشتگردوں نے اذیت پہنچانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، خود ایک عیسائی مورخ مسلمانوں کے اخراج سے متعلق اپنی کتاب میں لکھتا ہے۔
”مسلمانوں کا یہ اخراج تاریخ انسانیت کا زبردست اور شدید سربریت کا اقدام تھا،بالآخر عیسائیوں نے مسلمانوں کو اندلس سے نکال کر انکے نام و نشان تک کو اس سرزمین سے مٹا دیا جہاں انہوں نے تقریبا 800 سال تک حکومت کی، یہ تاریخ انسانیت کا ایک عبرتناک باب ہے، وہ مسلمان جن کی وجہ سے اندلس سینکڑوں برس تک تہذیب اور شائستگی کا مرکز، علوم و فنون کا سر چشمہ رہ چکا تھا، جنکی بدولت اس خطہ زمین کو صدیوں علمی، فنی، تہذیبی اور ثقافتی مرکز بننے کا فخر حاصل رہا ہےاور جسکی ہمسری یورپ کی کوئی قوم نہ کر سکی اور نہ ہی کوئی ملک مقابلہ کر سکا تھا، ان کو عیساءصیلیبی دہشتگردوں نے جلا وطن کر کے نام و نشان تک مٹا دیا۔
اس سرزمین پر اب خدائے بزرگ و برتر کا نام لیوا ایک متنفس بھی نہ بچا تھا، ہجرت سے پہلے روانہ ہوہنے والے قافلے کی گرد میں مسلمانوں کی نشانیاں بھی مٹ گئیں، بے شمار مسلمان عورتیں اور بچے سفر کی صعوبتوں کی تاب نہ لاکر راستے ہی میں جان ہار گئے، اسلامی تاریخ کا یہ المناک باب تھا جو ختم ہوا ، 800 برسوں تک حکومت کرنے اور 900 برسوں تک وہاں رہنے بسنے والوں کی آج ہسپانیہ میں کچھ پرانے کھنڈروں اور اذانوں کی آواز سے محروم جامع مسجد قرطبہ جیسی چند مساجد کے سوا اورع کوئی نشانی موجود نہیں۔
ضیاءشاہد
(بہ شکریہ اداریہ کراچی اپ ڈیٹس ڈاٹ کام)
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…