رام اللہ(مرکز اطلاعات فلسطین) مغربی کنارے میں قائم تحریک ’’فتح‘‘ نے اعتراف کیا ہے کہ اسے 2008ء کے آخر میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے کا دو سال سے علم تھا، اس نے اس جنگ کو روکنے کی پوری کوشش کی تھی، خیال رہے کہ اس جنگ میں پندرہ سو کے لگ بھگ فلسطینی شہید اور پانچ ہزار زخمی ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ فتح کی جانب سے یہ اعترافی بیان گزشتہ روز وکی لیکس پر شائع کی گئی امریکی سفارتی دستاویز کے اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مصر اور فلسطینی انتظامیہ کو اس اسرائیلی خونریزی کا پہلے سے علم تھا۔
واضح رہے کہ فتح کی جانب سے یہ اعترافی بیان گزشتہ روز وکی لیکس پر شائع کی گئی امریکی سفارتی دستاویز کے اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مصر اور فلسطینی انتظامیہ کو اس اسرائیلی خونریزی کا پہلے سے علم تھا۔
وکی لیکس کی ویب سائٹ پر ڈھائی لاکھ امریکی سفارتی دستاویزات کی اشاعت کی گئی ہے، جس میں تل ابیب کی جانب سے واشنگٹن انتظامیہ کو بھیجی گئے ٹیلی گرافس کے مطابق اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود باراک نے جون 2008ء میں تل ابیب آئے امریکی کانگریس کے اراکین کو بتایا تھا کہ انہوں نے مصر اور فلسطینی انتظامیہ دسمبر میں غزہ پر فوجی کارروائی سے آگاہ کر دیا ہے۔ اور اس کارروائی کے بعد غزہ کے انتظامات سنبھالنے کے لیے ان سے تعاون کی اپیل بھی کی ہے۔