Categories: مشرق وسطی

اسرائیلی فوجیوں میں خود کشی کا بڑھتا رجحان

تل ابیب (ايجنسياں)فلسطین اسرائیلی معاشرے میں خود کشیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر یہودی نوجوانوں، مزدوروں اور اسرائیلی فوجیوں میں خود کشی کے واقعات میں شدید اضافہ ہوا ہے، حتی کے اسرائیلی صہیونی معاشرے میں بچے بھی مایوسی کی اتہاہ گہرائیوں میں خود کشی کا سہارا لینے لگے ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر ایلن افٹیر نے اپنی ایک مطالعاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہر 100 اسرائیلی نوجوانوں میں سے 13نوجوان خود کشی کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرتے ہیں، خود کشیوں کی طرف اسرائیلیوں کا میلان پچھلے دو برس میں بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے سال اپنے ہاتھوں ہی موت کو گلے لگانے کی شرح 4.1فیصد تک جا پہنچی۔
دوسری جانب ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے درمیان خود کشیوں کے واقعات میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے، خود کشیوں میں موت کے گھاٹ اترنے والے فوجیوں کی تعداد عسکری کارروائیوں میں مرنے والوں سے بھی بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کی موت کی اولین وجہ اس وقت خود کشی بن چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2003 میں خود کشی کے سبب 43فوجی موت کے منہ میں گئے جو عسکری کارروائیوں میں مرنے والے 30فوجیوں کی تعداد سے زیادہ تھے۔مطالعاتی رپورٹ کے مطابق ہر سال کم از کم 30 صہیونی فوجی خود کشی کرتے ہیں، مایوسی کے اس بڑھتے رجحان پر قابو پانے کے لیے بہت سی حفاظتی تدابیر اختیار کی گئیں مگر اس ضمن میں تاحال کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق 2010 کے آغاز سے لیکر اب تک 19 اسرائیلی فوجیوں نے حالات کا مقابلہ کرنے سے انکار کیا اور موت کو گلے لگا لیا جبکہ پچھلے سال کل 21 فوجی خودکشی کے مرتکب ہوئے تھے۔اسرائیلی فوجی قیادت کے لیے جو چیز سب سے زیادہ پریشان کن ہے وہ فوج میں ڈیپارٹمنٹ آف مینٹل ہیلتھ کی جانب سے قیادت کے لیے ترتیب دیے گئے مختلف پروگرام ہوتے ہیں۔
ان پروگراموں کا مقصد افسران میں خود کشی کے بڑھتے رجحان کے اسباب تلاش کرنا اور اس مایوسانہ طرز عمل پر قابو پانے کے طریقوں کو دریافت کرنا ہوتا ہے۔من جملہ دیگر تدابیر کے اسرائیلی فوجی قیادت کو اپنے پاس اسلحہ نہ رکھنے اور زیادہ سے زیادہ وقت فوج میں گزارنے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ اس دوران خودکشی جیسے ہولناک اقدام پر مجبور کردینے والی نفسیاتی پریشانی سے دور رہا جا سکے۔
اسی طرح یہ پروگرام ممکنہ طور پر بزدل فوجیوں کی مشکلات پر قابو پانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج آخر اس حالت تک کیسے پہنچی؟ جواب بڑا سادہ سا ہے کہ وہ صہیونی فوجی جنہیں باور کرایا جاتا ہے کہ وہ کبھی شکست نہیں کھا سکتے اب دیمونا کے ایٹمی ری ایکٹر سے خارج ہونے والے مضر اثرات سے باخبر ہوچکے ہیں۔انہیں معلوم ہے کہ فوج کے پاس جو اسلحہ ہے وہ فلسطینی انتفاضہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
اس کے ذریعے فوج 2006 میں لبنان کی حزب اللہ کو شکست تو کجا دیتی بلکہ اپنے ہی زخموں کو چاٹنے پر مجبور ہوگئی تھی۔ اسی طرح فوج 2008 کے آخر میں میں غزہ پر جنگ مسلط کرنے کے باوجود اس پر دوبارہ قبضہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی تھی۔ اسرائیلی فوجیوں کے سامنے اپنی مصنوعی طاقت کا سارا پول کھل گیا ہے اور وہ مایوسی کے عالم میں موت کو گلے لگانا ہی ان کے لیے واحد حل باقی رہتا ہے۔
modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago