مذاکرات مسئلےکا حل نہیں بلکہ اس کا خاتمہ ہے
ایک دوسرے سوال پر حماس کے راہنما خالد مشعل نے کہاکہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے مسئلہ فلسطین حل نہیں بلکہ یہ سرے سے ختم ہو جائے گا. ایسے مذاکرات فلسطینی عوام کے مفاد میں ہرگز نہیں ہو سکتے. یہ صرف امریکی صدر براک اوباما اور صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے مفادات کےپیش نظر ہو رہے ہیں ان کا عرب ممالک یا فلسطینی قوم کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں.
فتح کو مخاطب کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ” فتح کی قیادت اپنے اندر بیداری اور زندہ ضمیر کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے بے سود مذاکرات کی رٹ ختم کرنے کی کوشش کرے. ان مذاکرات میں فتح کا نام استعمال ہو رہا ہے جو فتح کی محبت وطن قیادت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے”.
خالد مشعل نے مصری صدر حسنی مبارک اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان براہ راست مذاکرات کی حمایت اور طرف داری ختم کریں کیونکہ یہ مذاکرات فلسطینی عوام کی حمایت کے بغیر ہو رہے ہیں.
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں فلسطینی عوام کا نقصان اور قابض اسرائیل کا فائدہ ہے. اسرائیل مذاکرات کی آڑ میں فلسطینی عوام کو القدس کی سرزمین سے محروم کرتے ہوئے فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتا ہے اور وہ سنہ 1967ء کی حدود میں واپس جانے پربھی تیار نہیں.
قومی پالیسی کی تشکیل پرزور
خالد مشعل نے فلسطینی جماعتوں بالخصوص مغربی کنارے میں حکمران جماعت الفتح سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل سے مذاکرات کے بجائے مزاحمت پر مبنی قومی پالیسی تشکیل دے. ان کا کہنا تھا کہ اس وقت فلسطینی عوام میں ایک نئی صف بند کے ساتھ ساتھ تنظیم آزادی فلسطین کی دوبارہ اصل شکل میں بحالی اور اسکی تنظیم نو کی اشد ضرورت ہے.
موجودہ حالت میں فلسطینی اتھارٹی نہایت کمزور موقف اور طاقت کے ساتھ اسرائیل سے مذاکرات کر رہی ہے. مزاحمت کے ذریعے پہلے اپنی قوت اور طاقت مضبوط کی جائے بعد میں اس طاقت اور قوت کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنی شرائط پربات چیت ہو تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ایسی میں مذاکرات کی کامیابی یا اس کےنتیجہ خیز ہونے کا امکان ہے جبکہ موجودہ حالات میں اس امر کا امکان سرے سے نہیں.
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام