انجن کی خرابی
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جہاز العریش سے ساٹھ میل اور غزہ سے اسی میل دور بین الاقوامی پانیوں میں ساری رات رکا رہا ہے اور بظاہر اس کے انجن میں خرابی پیدا ہو گئی تھی۔
اسرائیلی پبلک ریڈیو کی اطلاع کے مطابق جہاز کے کپتان نے اس کے بڑے انجن میں خرابی کی اطلاع دی تھی۔ اسرائیلی ریڈیو نے صہیونی بحریہ کی جانب سے دھمکی آمیز بیان بھی نشر کیا جس میں جہاز کے کپتان سے کہا گیا کہ اگر انہوں نے غزہ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔
اسرائیلی بحریہ کے ایک مذاکرات کار کو ریڈیو پر جہاز کے کپتان سے یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ”آپ جہاز میں سوار لوگوں کے ذمہ دار ہیں اور غزہ کے علاقے میں داخل ہونے کی کوئی بھی کوشش آپ کی غلطی ہو گی”۔
طرابلس میں یوسف سوان نے اپنے بیان میں جہاز کے انجن میں خرابی کی تصدیق کی تھی۔تاہم انہوں نے اسرائیلی بحریہ کو اس کے سفر میں پیش رفت نہ ہونے کا مورد الزام ٹھہرایا اور کہا تھا کہ اسرائیلی بحریہ ہمیں غزہ کی جانب سفر سے روک رہی ہے کیونکہ اس کے جنگی جہازوں نے امدادی جہاز کا گھیراٶ کر لیا تھا۔
مالدووا کے پرچم والے جہاز املتھیا کو لیبیا کے خیراتی ادارے قذافی فاٶنڈیشن نے چارٹر کیا تھا۔ یہ ہفتہ کے روز یونان کی جنوبی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا۔ قذافی فاٶنڈیشن کا کہنا ہے کہ بانوے میٹر طویل جہاز پر دو ہزار ٹن سامان لدا ہے جس میں خوراک کی اشیاء اور ادویہ شامل ہیں۔جہاز پر عملے کے بارہ ارکان کے علاوہ نو مسافر سوار ہیں جو لیبیا، الجزائر، نائیجیریا اور مراکش سے تعلق رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ لیبیا کی جانب سے محصورین غزہ کے لیے امدادی بحری جہاز ترکی کےایک امدادی جہاز پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے کے چھے ہفتے کے بعد بھیجا گیا ہے۔ 31مئی کو اسرائیلی بحریہ کے کمانڈوز نے غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے جانے والے چھے امدادی جہازوں پر مشتمل قافلے پر دھاوا بول دیا تھا اور امدادی سامان لوٹنے کے علاوہ رضاکاروں کو بھی یرغمال بنا لیا تھا۔ اسرائیل کی اس جارحانہ کارروائی میں نوترک شہری شہید ہو گئے تھے اور اس واقعہ پر اسرائیل کے خلاف دنیا بھر میں شدید احتجاج کیا گیا ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام