مولانا عبدالحمید “اسفندک” کے عوام کے ساتھ
خداشناسی اور اللہ تعالی تک پہنچنا انسانیت کی تخلیق کا سب سے بڑا مقصد ہے
اگلے دن منگل کی صبح کو حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اپنے ساتھیوں سمیت ضلع سراوان کی تحصیل “بم پشت” پہنچ گئے جہاں “اسفندک” کے مومن عوام نے آپ کا پر تباک استقبال کیا۔
اس سفر میں مولانا محمد یوسف حسین پور اور مولانا محمد عثمان قلندرزہی بھی آپ کے ساتھ تھے۔
حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم نے اسفندک کی جامع مسجد طوبی میں خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالی تک پہنچنے اور خداشناسی کو خلقت انسان کا سب سے بڑا ہدف قرار دیتے ہوئے کہا لوگوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ تعالی نے انہیں صرف کھانے پینے، عیاشی اور کاروبار کیلیے تخلیق کی ہے یاوہ دنیا پر قبضہ جمانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن اللہ تعالی نے انسان کو مادیات سے بڑھ کر ایک مقصد کیلیے پیدا فرمایا ہے، اگر انسان مادیت اور ان ادنی چیزوں کے خاطر پیدا ہوتا تو اس کی کوئی قدر وقیمت نہ ہوتی۔ اس لیے کہ مادیت فانی ہے، آج ہے کل اس کا نام ونشان تک نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے انسانوں کو عزت اور قدر دی ہے، پوری کائنات اس کی خدمت کیلیے وقف ہے۔
مولانا عبدالحمید جو کہ بلوچی زبان میں بات کررہے تھے نے مزید کہا انسان زمین پر اللہ کے جانشین ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو نفس وشیطان کے مقابل میں لاکھڑا کرکے اسے سخت امتحان میں ڈال دیا ہے، ایک ایسا امتحان کہ اگر انسان اس سے سرخرو ہوکر کامیاب نکلے تو اسے وہ مقام حاصل ہوگا جو فرشتوں کو حاصل نہیں ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ ہمیں دل وجان، قلب اور قالب سے اللہ کی عبادت کرنی چاہیے۔ اللہ کے عاشق بنیں دنیا اور مادیات کے نہیں، دنیاودیگر اشیاء ہماری ضروریات ہیں مقصد ہرگز نہیں۔ مادی چیزیں ہم سے پہلے بھی تھیں اور ہمارے بعد بھی ہوں گی، ان کی کسی سے وفا نہیں ہوتی۔
جس طرح ہمیں خالق کی بندگی کرنی چاہیے اس طریقے سے ہم نے نہیں کیا ہے، گویا صحیح طریقے سے پوری طرح ہم نے زندگی کا مقصد نہیں پہچان سکا۔
اپنے بیان کے آخری حصے میں انہوں نے حاضرین کو مخاطب کرکے فرمایا اللہ تعالی نے لوگوں کو متعدد اور مختلف قسم کی صلاحتیں عطا کی ہے، ان صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ اس لیے میری سفارش یہ ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کی فکر کیجیے، انہیں اسلامی اور جدید فنون سیکھنے کی ترغیب دیدیں۔
ساتھ ساتھ ان کی دینداری اور ہدایت کے لیے بھی محنت کرکے منصوبہ بندی کریں۔
حضرت شیخ الاسلام “کوہک” میں
دین، ہدایت اور اللہ تعالی کی بندگی مسلمانوں کے ساتھ خاص نعمتیں ہیں
حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید چند گھنٹے کے بعد تحصیل بم پشت کے علاقے “کوہک” پہنچ گئے جہاں عوام سے ملاقات کرکے آپ نے “ہدایت” اور “دین” کی عظیم نعمتوں کی اہمیت کے حوالے سے پرمغزگفتگو فرمائی۔ انہوں نے کہا اگرہم اللہ کی عبادت وبندگی کاحق ادا کریں تو دنیا وآخرت میں ہمیں عزت ملے گی۔ دنیا فانی ہے، اس سے فائدہ اٹھائیے مگر دلی تعلق نہ رکھیں، ہمیں مال ومقام اور عزت کاگرویدہ نہیں ہونا چاہیے۔
جس شخص کے دل میں دنیا کی محبت غالب ہوجائے تو وہ اللہ تعالی کی نظروں سے گرجاتاہے اورایک ذلیل فرد بن جاتاہے۔ اللہ سے غافل مت ہوجائیں، گناہوں سے دوری کریں تو تمہاری زندگی پرنور وبرکت بن جائے گی۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا علاقے میں امن وامان کی صورتحال کاخیال رکھیں، قانونی طریقے سے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔ جائز اور قانونی طریقے سے روزی کمائیں۔ امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے آپ کیلیے جنت کی کفالت نہیں لی ہے، یہ تمہاری یقینی منزل نہیں بلکہ اسے حاصل کرنے کیلیے نیک اعمال کاسہارا لینا چاہیے البتہ اللہ تعالی نے رزق کی ذمہ داری اپنے ذمے لیے ہیں اور وہی ورزی کے کفیل ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ لوگ حصول جنت کلیے محنت نہیں کرتے اور صرف توکل کرتے ہیں مگر روزی کمانے کیلیے سرتوڑ کوششیں کرتے ہیں حتی کہ ناجائز کاموں سے بھی دریغ نہیں کرتے!
آخرمیں انہوں نے دوبارہ ہدایت اور علم کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا یہ دوچیزیں آپ کی عزت و سربلندی کے ذرائے ہیں۔ عرب قوم جاہلیت وگمراہی کی تاریکیوں میں گم تھی، اللہ نے ہدایت اور علم کے ذریعے انہیں وہ مقام عطا فرمایا کہ پوری دنیا حیران رہ گئی۔
اپنے بچوں کے مستقبل سے غافل مت ہوجائیے، انہیں کسب علم کی ترغیب دیدیں، ان کی صلاحیتوں کوکاروبار سے برباد مت کریں۔ آخرت کی فکر کیجیے اللہ تعالی تمہاری دنیا آباد کرے گا۔
عذاب الہی سے نجات کاواحد راستہ اسلام ہے
مولانا عبدالحمید منگل29 جون کے دوپہر کو نماز ظہر کی ادائیگی کیلیے “کنارپشت” نامی بستی تشریف لے گئے۔ حاضرین سے مختصر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا آج کی دنیا میں بنی نوع انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ اگر انسان عذاب الہی سے نجات کا خواہاں ہے تواسے اسلام پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
خطیب اہل سنت نے مزید کہا ہمیں اسلامی احکام پر پوری طرح اور یکسوئی کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔ نمازوں کو ہرگز قضا نہیں کرنی چاہیے۔ نماز کلمہ طیبہ کے بعد اسلام کا اہم ترین ستون ہے۔
آخر میں انہوں نے حاضرین کو ترغیب دی کہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کی بندگی کریں، اپنی نجات کیلیے سوچیں، روز قیامت کوئی بچانے والا نہیں۔ راہ نجات صرف شرعی احکام کی پیروی اور اسلام پر تمسک ہے۔ اس راہ میں صبر واستقامت سے کام لینا چاہیے، گناہوں سے بچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے اپنانا ہوگا۔
جاری ہے۔۔۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام