کرغزستان میں انقلاب کی در پردہ کہانی

کرغزستان وسطی ایشیا میں امریکا کا اہم اتحادی ملک ہے۔ وہاں پر امریکا نے اپنا ہوائی اڈہ بھی قائم کررکھا ہے۔ افغانستان سمیت خطے میں لڑی جانے والی دہشت گردی کی جنگ میں کرغزستان میں موجود امریکی اڈے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یہاں امریکی، اسرائیلی اور ہندوستان ایجنسیوں کا بھی راج رہا ہے لیکن موجودہ انقلاب نے امریکا اور اس کے حواریوں کی بہت سی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ کرغزستان کی اپوزیشن جماعتیں اور عوام امریکی اڈے کی فوری بندش کا مطالبہ کررہی ہیں۔ بعض امریکی اور مغربی تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس ساری صورتحال کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے لیکن روس اس الزام کی تردید کررہا ہے۔ کرغزستان میں یہ انقلاب اور حکومت کی تبدیلی کس کی فتح اور کس کی شکست ہے؟ ذیل میں اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

کرغزستان میں ہنگامے اس وقت شروع ہوئے جب مہنگائی بجلی کے نرخوں میں اضافے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جابرانہ طرز حکمرانی اور معاشی بدانتظامی کے خلاف کرغز عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ اس موقع پر مظاہرے خونی رنگ اختیار کر گئے اور جھڑپوں، فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ بھپرے ہوئے مظاہرین نے ڈنڈے مار مار کر وزیر داخلہ کو ہلاک کردیا۔ ان مظاہروں میں زخمیوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤ، ریاستی ٹی وی ہاؤس اور دیگر کئی اہم سرکاری عمارتوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ اس صورتحال میں وزیر اعظم نے فوری طور پر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا جبکہ صدر فرمان بیگ یاقیوف ایک چھوٹے طیارے کے ذریعے ملک سے فرار ہوگئے۔ مظاہرین نے مغربی شہر تالاش کے گورنر ہاؤس پر بھی قبضہ کرلیا اور خاندانی گورنر کو ہٹا کر اپنا گورنر نامزد کردیا۔ مظاہرین نے دارالحکومت بشکیک کی سرکاری عمارتوں میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی۔
کرغزستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا اہم اتحادی ہے اور وہاں پر اس انقلاب نے خطے میں امریکی مفادات کے آگے ایک سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے تو وہیں روس کے خطے میں برتری اور اثر و رسوخ کا بھی اندازہ ہو رہا ہے۔ کرغزستان کی اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ امریکا نے جان بوجھ کر کرغز حکومت کی بداعمالیوں اور انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کیے رکھیں۔ یہ جماعتیں کرغزستان میں قائم امریکی فوجی اڈے کو فوری طور پر بند کرنے کا بھی مطالبہ کررہی ہیں۔ اس سے صدر اوباما کے منصوبے کو شدید دھچکا لگے گا کیونکہ وہ افغانستان میں طالبان کے مضبوط ترین مراکز پر بھرپور آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کرغزستان کے نائب وزیر اعظم ازبک بیک ناروف جو قانونی معاملات کے نگران بھی ہیں کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کرغزستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بخوبی آگاہ تھی لیکن اس نے حکمرانوں کو دولت جمع کرنے کا موقع فراہم کیا۔ گزشتہ دو تین سال کے دوران کرغزستان میں جمہوری اقدار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ کرغز عوام کی اکثریت میں یہ سوچ راسخ ہو چکی ہے کہ امریکا کو یہاں صرف اپنے ائیربیس میں دلچسپی ہے اور اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ یہاں انسانی حقوق کس طرح پامال ہو رہے ہیں۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کرغزستان میں امریکی اڈہ موجود نہیں ہونا چاہیے۔”
اس وقت امریکی ہوائی اڈے کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں سے فوجیوں کو لانے اور لے جانے والی پروازیں عارضی طور پر معطل کردی گئی ہیں جبکہ ری فیولنگ سمیت معمول کے آپریشنز جاری ہیں۔ صدر کے بیٹے میکم باقیوف مبینہ طور پر امریکی ہوائی اڈے کو تیل کی فروخت میں ملوث ہیں۔ امریکی اڈے کو تیل کی فروخت ایک حساس معاملہ ہے لیکن صدر باقیوف نے کہا ہے کہ ان کے پیش رو صدر جو 2005ء میں ایک اسی طرح کی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہوگئے تھے، نے بھی اسی طرح کے سودوں میں اپنے خاندان کے لیے دولت اکٹھی کی۔ کرغزستان کے نئے پراسیکیوٹر کے مطابق ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ صدر کا بیٹا واقعی تیل کی فروخت میں ملوث ہے لیکن عوام یہ ضرور کہہ رہی ہے کہ ان تمام کہانیوں کے پیچھے کوئی نہ کوء وجہ ضرور ہوگی۔ امریکی حکام اس الزام کی ماضی میں تردید کرتے آئے ہیں کہ انہوں نے باقیوف حکومت کے غیر انسانی رویے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کھلی چھوٹ نہیں دے رکھی تھی بلکہ انہوں نے کئی بار بند کمرے میں اس معاملے پر صدر باقیوف سے بازپرس بھی کی تھی۔ صدر باقیوف نے ”وال اسٹریٹ جرنل” کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہوسکتا ہے ان کا بیٹا امریکی اڈے کو تیل کی فراہمی میں ملوث ہو لیکن یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہے۔
کرغزستان میں ایک طرف امریکا کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے تو وہیں روس کے لیے اچھے جذبات پیدا ہو رہے ہیں۔ روس کا حکومت نواز میڈیا تو کئی ماہ قبل ہی صدر باقیوف کے بارے میں کہانیاں گڑھنے لگا تھا۔ ولادیمیر پوٹن پہلے رہنما تھے جنہوں نے صوبائی حکومت کے ایک رہنماء روز اوٹن کو نئی ڈی فیکٹو حکومت بنانے کے لیے کہا تھا۔ اس کے علاوہ روس نے نئی حکومت کو ہر ممکن معاشی تعاون کی پیشکش بھی کی تھی۔ اب کرغزستان کے نئے رہنماؤں نے ملک میں چھ ماہ کے اندر اندر نئے انتخابات کروانے اور آئینی اصلاحات لانے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا جھکاؤ واضح طور پر روس کی طرف ہے۔ اس طرح موجودہ صورتحال کو رواں سال کے دوران کریملن کی دوسری فتح قرار دیا جاسکتا ہے۔ فروری میں یوکرائن میں ووٹرز نے روس مخالف وکٹر یوشنکو کی حکومت کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

ایس – ایم – زیدی
(بہ شکریہ روزنامہ اعتماد حیدرآباد)

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago