امریکی وزیردفاع کا دورہ
امریکا پاکستان سے یہ مطالبہ کرتا چلاآرہا ہے کہ وہ اپنے سرحدی علاقے میں موجودجنگجوٶں کے خلاف کارروائی کا دائرہ کاربڑھائے جو اس کے بہ قول افغانستان میں موجود امریکی اوردوسرے غیر ملکی فوجیوں پر حملوں کے لئے سرحدی علاقے کوایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں لیکن اب امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے میزبان ملک پر براہ راست کوئی دباٶ نہیں ڈالیں گے.
امریکی وزیردفاع نے جمعرات کو دوروزہ دورے پر اسلام آباد آمد کے بعد پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی اور وزیردفاع چودھری احمد مختار سے الگ الگ ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے..
انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں امریکی محرکات کے بارے میں سازشی نظریوں سے بخوبی آگاہ ہیں.انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کی کوئی خواہش نہیں رکھتااور نہ ملک پر قبضے یا اس کو توڑنے یا مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کی کسی سازش میں شریک ہے.
انہوں نے کہا کہ ”وہ پاکستانی قیادت کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں افغانستان میں اپنے ملک کی جنگی حکمت عملی پر بات چیت کریں گے اور پاکستان کو یہ یقین دہانی کرائیں گے کہ امریکا ایک طویل عرصے کے لئے یہیں رہے گا”.
گیٹس نے جمعرات کو ایک پاکستانی روزنامے میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ”پاکستان کے سرحدی علاقے سے تعلق رکھنے والے طالبان جنگجو افغانستان میں موجود القاعدہ اور طالبان سے مل کر کام کرتے ہیں،اس لئے سرحد کے دونوں جانب دباٶ ڈال کرہی پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کو فروغ دینے والے گروہوں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں.
امریکی وزیردفاع نے لکھا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستان کے سرحدی علاقے اورافغانستان میں استحکام کے درمیان تعلق،ایشیا میں انتہا پسندی کے خطرے،غیرقانونی منشیات کی روک تھام کے لئے کوششوں اور میری ٹائم سکیورٹی کے شعبہ میں تعاون کے حوالے سے پاکستانی قیادت سے تزویراتی تبادلہ خیال کرنا ہے.
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…