شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 27 مئی 2026ء کو زاہدان میں عید الاضحی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، ایران جنگ میں شریک فریقین کی جانب سے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کا حوالہ دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ کامیاب ہوگا اور جنگ کو روکے گا۔
زاہدان کے خطیبِ جمعہ نے اس تقریب میں ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں اغوا اور چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی کڑی تنقید کرکے افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے ان گناہوں اور برائیوں کے خطرناک دنیوی اور اخروی نتائج کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے عدلیہ، سکیورٹی حکام کے ساتھ ساتھ قبائلی معززین اور عوام کے مختلف طبقات سے مطالبہ کیا کہ وہ ان جرائم کا سنجیدگی سے مقابلہ کریں۔
ملک کے لیے سب سے بڑی خیرخواہی عوام کی بات سننا اور ان کی رضامندی حاصل کرنا ہے
اہل سنت زاہدان کے خطیبِ جمعہ کے دفتر کی خبر رساں ویب سائٹ کے حوالے سے سنی آن لائن نے رپورٹ دی، مولانا عبدالحمید نے ایرانی بلوچستان کے مرکز میں کہا: ہمیں امید ہے کہ جو مذاکرات جاری ہیں اور جن کا مقصد جنگ کو روکنا ہے، وہ کامیاب ہوں گے اور فریقین ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہو جائیں گے۔ البتہ، ہمیں اس معاہدے کی تفصیلات کا علم نہیں ہے، لیکن ہم نے ماضی میں کئی بار منصفانہ معاہدے پر زور دیا ہے۔ جو لوگ اس نقطہ نظر کے خلاف تھے، الحمدللہ اب وہ اس سے متفق ہیں۔ ماضی میں بھی ایسی باتیں کہی گئی تھیں جن سے کچھ لوگ متفق نہیں تھے اور تنقید کرتے تھے، لیکن آخر کار وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ باتیں درست اور صحیح تھیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہم ملک اور ایرانی عوام کے خیرخواہ ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ ملک کے لیے سب سے بڑی خیرخواہی ایرانی عوام کی بات سننا اور ان کی رضامندی حاصل کرنا ہے۔ ملک، حکومت اور ریاست عوام کی ہے، اس لیے عوام کی خدمت اور ان کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
انہوں نے نشاندہی کی: ہمیں امید ہے کہ ہمارے ملک میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جس میں ملک کے تمام فوائد عوام کو لوٹائے جائیں گے۔ قومی مفادات بہت اہم ہیں اور ہر چیز کو عوام کے مفادات پر قربان کر دینا چاہیے۔
مسائل کو عقل و تدبیر اور تشدد سے گریز کرتے ہوئے حل کیا جائے
زاہدان کے خطیب جمعہ نے تشدد سے گریز پر زور دیا اور کہا: تشدد سے تشدد جنم لیتا ہے۔ سب کو تشدد سے بچنا چاہیے اور مسائل کو عقل و تدبیر سے حل کرنا چاہیے۔
اغوا اور چوری معاشرے کی عزت کے ساتھ کھیلنا ہے؛ ان جرائم کا مقابلہ کیا جانا چاہیے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اہل سنت زاہدان کے شاندار عید الاضحی کے اجتماع میں اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں سیستان و بلوچستان میں بعض جرائم اور سماجی مسائل خاص طورپر اغوا اور چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر کڑی تنقید کی اور کہا: بدقسمتی سے معاشرے میں انتہائی خطرناک اور چونکا دینے والے گناہ اور برائیاں موجود ہیں جن کی وجہ سے ہم بہت پریشان ہیں۔ وہ کام جو ماضی میں باعث شرم تھے اور لوگ ان سے نفرت کرتے تھے، آج معاشرے میں عام ہو چکے ہیں اور ان میں سے کچھ برے کاموں نے اپنی حساسیت کھو دی ہے اور معمول بن گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: چوری اور اغوا انتہائی قبیح جرائم ہیں جو بدقسمتی سے معاشرے میں پھیل چکے ہیں۔ چوری بہت بڑے گناہوں میں سے ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جب چور چوری کرتا ہے تو ایمان اس سے جدا ہو جاتا ہے۔ اغوا، خاص طور پر اگر بھتہ خوری کے لیے ہو، تو یہ بھی بہت بڑا گناہ، حرام اور خلافِ شریعت ہے۔ البتہ قرض کی وصولی کے لیے لوگوں کو اغوا کرنا بھی شرعی لحاظ سے ناجائز ہے۔ ماضی میں کئی بار متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر قرض کی وصولی کے لیے اغوا کے رجحان کو نہ روکا گیا، تو مستقبل میں یہ بھتہ خوری میں تبدیل ہو جائے گا اور امن و امان کو تباہ کر دے گا۔
اغواکار اور چور بددعا اور لعنت سے ڈریں
زاہدان کے خطیب جمعہ نے مزید نشاندہی کی: اغوا اور چوری عوام اور ہمارے معاشرے کی عزت کے ساتھ کھیلنا ہے اور یہ ہر معاشرے اور قوم کے لیے شرمندگی اور رسوائی کا باعث بنتا ہے۔ میں اغوا کاروں اور چوروں کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ بددعا اور لعنت سے ڈریں اور جان لیں کہ جو شخص چوری اور بھتہ خوری کرتا ہے، وہ بہت جلد لوگوں کی بددعا اور عذاب الہی کا شکار ہو جاتا ہے۔
انہوں نے زور دیا: چوروں اور اغوا کاروں کو میرا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ اللہ اور بددعا سے ڈریں اور لوگوں کے جو افراد یا اموال آپ کے قبضے میں ہیں، انہیں جلد از جلد رہا کریں۔
عدلیہ اور سکیورٹی حکام چوروں اور اغوا کاروں کی شناخت کر کے ان کا تعاقب کریں؛ معززین اور عمائدین بھی ان برے جرائم کے خلاف جنگ میں سنجیدگی دکھائیں
ایران کے ممتاز عالم دین نے مزید کہا: لوگ اس صورتحال سے بہت دکھی اور ناراض ہیں کہ جن لوگوں کی ذمہ داری سکیورٹی فراہم کرنا ہے، وہ اپنے فرائض کیوں ادا نہیں کر رہے۔ اگر سکیورٹی کے ذمہ دار اپنے فرائض ادا نہیں کریں گے، تو معاشرے میں بدامنی اور کرپشن دوگنی ہو کر پھیل جائے گی۔ اگر اہلکاروں میں بدعنوانی ہو اور کوئی اہلکار کرپٹ عناصر سے ملا ہوا ہو، تو مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے صوبے میں شہروں اور راستوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اگر صوبے میں روزگار فراہم کرنے والا سرمایہ کار ہی خود کو محفوظ نہ سمجھے، تو کوئی بھی صوبے میں رک کر کام نہیں کر سکے گا۔
انہوں نے زور دیا: ہم عدلیہ، پولیس اور ان تمام اداروں اور حکام سے، جن پر معاشرے کی سکیورٹی کی ذمہ داری ہے، مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ چوروں اور اغواکاروں کی شناخت کر کے ان کا تعاقب کریں اور ان کا قلع قمع کریں، اور اس بات کی اجازت نہ دیں کہ علاقے کا امن تباہ ہو اور علاقے کی عزت خطرے میں پڑے۔ معززین اور عمائدین کو بھی اغوا اور چوری کے جرائم کے خلاف جنگ کے میدان میں سنجیدہ ہونا چاہیے۔
بہت سے لوگ نسلی اور قبائلی تعصبات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں؛ عوام ہوشیار رہیں
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: جناتی شیاطین کے علاوہ انسانی شیاطین بھی معاشرے میں گناہ اور فساد پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں قوم پرستی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ بہت سے لوگ انگریزوں کی “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کو استعمال کرتے ہوئے صوبے کے قبائل اور برادریوں کے درمیان نسلی اور قبائلی تعصبات کو ہوا دینے اور ہمارے معاشرے کو جہالت کے دور میں واپس دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن عوام کے مختلف طبقات کو ہوشیار اور بیدار رہنا چاہیے، اپنا اتحاد برقرار رکھنا چاہیے اور ایک ساتھ مل کر ان برے جرائم کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
اپنے خطاب کے آخر میں، مولانا عبدالحمید نے معاشرے میں منشیات کی لت اور شراب نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے حوالے سے بھی متنبہ کیا اور ان برائیوں کو معاشرے سے ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے عوام، بالخصوص نوجوانوں کو علم و دانش پر توجہ دینے اور ہنر و فن سیکھنے کی بھی تلقین کی۔
مفتی محمدقاسم قاسمی نے 5 جون 2026ء کو زاہدان کے نمازِ جمعہ اجتماع میں خانۂ…
دنیا میں تمام گناہوں اور فساد کا سرچشمہ آخرت پر یقین کا نہ ہونا یا…
حج اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر اور مسلمانوں کے لیے ایک اہم، بڑا اور…
ایمان، عملِ صالح، حق اور صبر کی تلقین فلاح و کامیابی کے چار بنیادی محور…
ہم تمام انسانوں کے خیرخواہ ہیں اور ایرانی قوم اور ملک کی بہتری اور فلاح…
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 8 مئی 2026 کو زاہدان میں نمازِ جمعہ کے خطاب…