بيانات

ایمان، عملِ صالح، حق اور صبر کی تلقین فلاح و کامیابی کے چار بنیادی محور ہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع (15 مئی 2026ء) میں سورہ مبارکہ “العصر” کی روشنی میں ایمان، عملِ صالح، حق کی وصیت اور صبر کی وصیت کو کامیابی کے چار ستون قرار دیا اور “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کے فریضے کی ادائیگی پر زور دیتے ہوئے معاشرتی حالات سے لاپرواہی برتنے کے نتائج و عواقب سے خبردار کیا۔

سورہ مبارکہ “العصر” ایک مختصر مگر جامع سورہ ہے
دفتر خطیب اہل سنت زاہدان کی رپورٹ کے مطابق، شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سورہ مبارکہ “العصر” کی تلاوت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: سورہ عصر الفاظ اور آیات کے لحاظ سے قرآن کی مختصرترین سورتوں میں سے ایک ہے، لیکن معانی اور رہنمائی کے لحاظ سے یہ ایک بہت عظیم سورت ہے۔ بعض صحابہ کرام جب ایک دوسرے سے ملاقات کرتے تھے تو اس سورت کی تلاوت اور اس کا تذکرہ کیے بغیر جدا نہیں ہوتے تھے۔ صحابہ کے بعد بعض بزرگوں نے بھی اسی طریقے پر عمل کرنے کی کوشش کی اور اپنی محفلوں میں اس سورت کو پڑھتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: سورہ عصر ایک مکمل اور جامع سورہ ہے۔ اس سورت میں انسانوں کے لیے کافی ہدایت موجود ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ صرف سورہ عصر ہی نازل فرماتا اور لوگ اس میں غور و فکر کرتے تو ان کی ہدایت کے لیے کافی ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر فضل فرمایا اور مکمل قرآن نازل کیا جس میں وہ سب کچھ موجود ہے جو انسانیت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

حق کا انکار اور ظلم کا تسلسل عذابِ الہی کا سبب بنتا ہے
مولانا عبدالحمید نے اظہار فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں زمانے کی قسم کھائی ہے؛ یعنی تاریخ کو گواہ بنایا ہے۔ وقت اور زمانہ اس بات پر سب سے بڑا گواہ ہے کہ دنیا میں کون لوگ کامیاب ہوئے اور کن کو شکست ہوئی۔ دنیا کی کئی بڑی اور مشہور قومیں ناکام ہوئیں اور کئی سرخرو ہوئیں۔ تاریخ گواہی دے سکتی ہے کہ کون سی قومیں تباہ ہوئیں اور ان کی تباہی کی وجہ کیا تھی؟
انہوں نے مزید کہا: ہر انسان کو سوچنا چاہیے کہ یہ قومیں اتنی دولت اور طاقت کے باوجود کیوں ہار گئیں؟ فرعون جو خود کو خدا کہتا تھا—نعوذ باللہ—اتنی حکومت اور طاقت کے باوجود کیوں ناکام ہوا؟ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خیر خواہی اور نصیحتوں کو قبول نہیں کیا، جنہوں نے اسے ہدایت، اللہ اور رسول کی اطاعت کی طرف بلایا تھا اور بنی اسرائیل پر ظلم و عذاب ڈھانے سے روکا تھا، اس نے اہل حق کا مقابلہ کیا اور شکست کھائی۔ اگر فرعون ظلم نہ کرتا تو عذاب میں مبتلا نہ ہوتا۔ اس نے نہ صرف ہدایت اور حق کو قبول نہیں کیا بلکہ بنی اسرائیل پر ظلم جاری رکھا، انہیں ان کے حقوق سے محروم کیا اور جادوگروں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کی پاداش میں تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اسے سمندر میں غرق کر دیا۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید اور اللہ کی اطاعت کی دعوت دی، وہ ان کی بات نہیں سمجھ پا رہے تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے بتوں کو توڑ دیا تاکہ انہیں اس طریقے سے سمجھائیں کہ یہ معبود جو سننے، دیکھنے اور قدرت سے محروم ہیں، وہ نہ اپنے آپ سے نقصان دور کر سکتے ہیں اور نہ انہیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی خدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن نمرود اور آزر سمیت بہت سے لوگوں نے ان کی مخالفت کی اور توحیدِ الہی کا انکار کیا۔
خطیبِ جمعہ زاہدان نے مزید کہا: قرآن مجید میں قوم عاد، ثمود، قوم لوط اور دیگر قوموں کے انجام کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے انبیاء کی بات نہیں مانی، ایمان نہیں لائے اور عذاب الہی کا شکار ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ پڑھیں؛ دنیا کی بہت سی قومیں جنہوں نے تکبر، غرور، ظلم اور نافرمانی کی، وہ عذاب میں مبتلا ہوئیں۔ قرآن صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لیے ہے تاکہ اسے پڑھیں اور اس میں غور و فکر کریں۔ جب انسان قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دنیا کے تمام لوگ خسارے میں ہیں؛ سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کی۔

ایمان اور عملِ صالح سب سے بڑی سعادت اور نجات کے اسباب ہیں
خطیبِ جمعہ زاہدان نے فرمایا: کوئی بھی عمل ایمان جتنا بڑا، اہم اور پر اثر نہیں ہے۔ سب سے بڑی سعادت اصلِ ایمان میں ہے کہ انسان اللہ پر یقین رکھے اور اس کے وجود و وحدانیت پر ایمان لائے۔ ایمان جڑ اور بنیاد ہے لیکن نجات کے لیے صرف ایمان کافی نہیں بلکہ عملِ صالح کی بھی ضرورت ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور تمام نیکیاں عمل صالح میں شامل ہیں۔ سلام کا جواب دینا عمل صالح ہے۔ راستے سے کانٹا یا پتھر ہٹانا عملِ صالح ہے۔ کسی کو راستہ دکھانا عمل صالح ہے۔ ایمان اور عمل صالح کامیابی اور اللہ کی طرف پرواز کے دو بڑے پروں کی مانند ہیں، جو انسان کی نجات کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

صبر آدھا ایمان ہے
صدر دارالعلوم زاہدان نے فرمایا: ایمان اور عملِ صالح کے علاوہ ہماری دو اور ذمہ داریاں بھی ہیں؛ حق کی وصیت اور صبر کی وصیت۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو یہ فریضہ دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صحیح راستے اور حق کی تلقین کریں۔ ہر وہ نصیحت جس میں نیک کام پر زور دیا جائے، وہ حق کی وصیت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: حق اور صبر کی وصیت دراصل وہی “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” ہے۔ آج “علماء” اور “تبلیغی جماعت” یہ کام کر رہے ہیں، لیکن اس کام کو صرف خاص علماء یا تبلیغیوں کے لیے نہ چھوڑیں؛ اگر سب لوگ یہ کام کریں تو دنیا کی اصلاح ہو جائے گی۔ اس کے لیے منبر اور اجتماع ضروری نہیں؛ ہم میں سے ہر شخص جب ایک دوسرے سے ملے تو حق کی وصیت کرے۔
انہوں نے کہا: صبر کا مطلب نفس پر قابو پانا ہے۔ جب نفس گناہ اور ظلم پر اکسائے تو اسے روکیں۔ فجر کی نماز کے وقت نفس کہتا ہے سو جاؤ، لیکن جب آپ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو گویا آپ نے نفس کو لگام لگا دی۔ مصیبت کے وقت بھی صبر کرنا چاہیے۔ جب آپ نے مسجد، مدرسہ، بیت المال اور لوگوں کا مال جو آپ کے قبضے میں تھا، ضرورت کے باوجود نہیں کھایا، تو آپ نے خود پر قابو پایا اور یہی صبر ہے۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ انسان مصیبت کے وقت وقار اور صبر کا مظاہرہ کرے اور گریبان چاک کرنے یا ناشکری کرنے کے بجائے اللہ کی تقدیر پر راضی رہے اور خدا کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ صبر آدھا ایمان ہے۔

بے حس نہ بنیں؛ بے حس معاشرہ نقصان اٹھاتا ہے / امر بالمعروف ایک ہمہ گیر ذمہ داری ہے
خطیب زاہدان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا: بے حس نہ بنیں؛ بے حس معاشرہ زوال پذیر ہوتا ہے اور نقصان اٹھاتا ہے۔ اگر ہم لوگوں کو نیکی کی تلقین نہیں کریں گے اور گناہ سے نہیں روکیں گے اور بے حس رہیں گے تو خسارے میں رہیں گے۔ علماء، خواتین، مرد اور کوئی بھی طبقہ معاشرے میں گناہ، معصیت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف بے حس نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے علماء، بزرگوں، بااثر افراد اور ہم سب کو ذمہ داری دی ہے، ہماری ذمہ داری بہت بھاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا: امر بالمعروف و نہی عن المنکر ایک اجتماعی فریضہ ہے۔ حکمت، ہمدردی اور خیرخواہی کے ساتھ لوگوں کو نیکی کی طرف دعوت دیں۔ بے حس نہ رہیں اور دیکھیں کہ آپ کے گھر، خاندان، رشتہ داروں اور محلے میں کیا ہو رہا ہے، کیا آپ کے بچے نماز پڑھتے ہیں؟ بعض والدین کہتے ہیں کہ ہم نے بچوں کو کہا ہے لیکن وہ ہماری بات نہیں مانتے؛ اس سے ذمہ داری پوری نہیں ہوتی، باپ کو جب تک وہ زندہ ہے نصیحت کرنی چاہیے۔ اگر آج بچہ نصیحت قبول نہیں کر رہا تو ایک دن ضرور کرے گا۔ تھکنا نہیں چاہیے۔

علم و دانش ہر معاشرے کی ترقی اور سربلندی کا سبب ہے / یہ صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے
مولانا عبدالحمید نے دینی مدارس، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی گرمیوں کی چھٹیوں کے قریب آنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: دینی مدارس کی چھٹیاں بھی اسکولوں کی طرح گرمیوں کے موسم میں کر دی گئی ہیں تاکہ طلباء، علماء اور مدارس کے ذمہ داران آپ کے بچوں کی تعلیم کے لیے موقع فراہم کریں اور طلباء کو ان مضامین میں مضبوط کریں جن میں وہ کمزور ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہم سب کا فرض ہے کہ علم کی ترغیب دیں۔ ہمارے معاشرے کی سربلندی اور نجات، اور ہماری دنیا و دین کی بھلائی علم میں ہے۔ عصری علوم اور شرعی علوم سب علم ہیں۔ ہمیں معاشرے کو علم حاصل کرنے کی طرف راغب کرنا چاہیے۔ علم انسان اور معاشرے کی صلاحیتوں اور استعداد کو بڑھاتا ہے اور معاشرے کو بلندی اور کمال تک پہنچاتا ہے۔ ہم علم کے ذریعے دنیا اور آخرت دونوں سنوار سکتے ہیں۔

علمی مراکز کو علم، عمل اور خیر کی تعلیم دینی چاہیے / مدارس کی حمایت کریں
مولانا عبدالحمید نے اپنی گفتگو کے اس حصے کے آخر میں فرمایا: دینی مدارس، قرآنی مکاتب، اسکول اور یونیورسٹیاں سب خیر کا باعث ہیں۔ ان علمی مراکز میں علوم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عمل، اخلاص، تقویٰ اور خوفِ خدا بھی ہونا چاہیے اور علم و عمل و خیر کی تعلیم دی جانی چاہیے۔ مدارس اور مساجد کی حمایت کریں۔

“سیاسی پھانسیاں” ملک کی بھلائی اور حکمران و عوام کے مفاد میں نہیں ہیں
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبے کے دوسرے حصے میں ملک میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تنقید کی اور کہا کہ سیاسی سزائیں ملک، حکمرانوں اور عوام کے نقصان میں ہیں، اس لیے انہوں نے ان سزاؤں کو روکنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا: آج کل جو سزائیں دی جا رہی ہیں وہ ایران کے ملک اور قوم کے لیے نقصان دہ ہیں۔ البتہ “قصاص” حق اور درست ہے، اور جو شخص قتل کا مرتکب ہو وہ قتل کیا جاتا ہے، لیکن سیاسی سزائیں ہمارے ملک کی بھلائی اور حکمران و عوام کے مفاد میں نہیں ہیں۔

نبی اکرم اور خلفائے راشدین کے دور میں “سیاسی سزائے موت” نہیں تھی
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: یہ سیاسی سزائیں نبی کریم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں نہیں تھیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین اور حضرت علی رضی اللہ عنہم ہمارے پیشوا اور مقتدا ہیں، اور امت اسلام کے تمام فقہا و علما نے جو کچھ بھی حاصل کیا ہے، انہی بزرگوں سے حاصل کیا ہے۔ فقہا کی ہر مکتب فکر کے مطابق یہ سمجھ بوجھ کہ آیت “إنما جزاء الذین یحاربون الله و رسوله…” کا اطلاق کیسے ہوگا، اسے اللہ کے رسول کی سیرت اور زندگی سے مطابقت رکھنی چاہیے، کیونکہ آپؐ کو وحی کا سب سے بہتر اور سب سے زیادہ فہم حاصل تھا۔
انہوں نے مزید کہا: سزائے موت کے ایک اور نقصان یہ ہے کہ دنیاوالے کہتے ہیں ایرانی حکام اپنے ہی لوگوں کو قتل کرتے ہیں، اور یہ وہی چیز ہے جس کے حوالے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ تھا، اسی لیے انہوں نے منافقین کو قتل کرنے کی درخواست قبول نہیں کی۔ لہٰذا میں حسبِ سابق یہ مشورہ دیتا ہوں کہ سزائے موت کوئی حل نہیں ہے، اور ان سزاؤں کو بند کیا جائے۔

“جبری اعتراف” شریعتِ اسلام، آئین اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے
ایران کے ممتاز عالم دین نے آگے چل کر جبری و “زبردستی اعتراف” کی بھی مذمت کی اور کہا: ہمارے ملک کے حراستی مراکز میں جو زبردستی اعترافات کروائے جاتے ہیں، وہ شریعتِ اسلام، ہمارے ملک کے آئین اور بین الاقوامی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے۔ زبردستی لیا گیا اعتراف سزا سنانے کے لیے سند اور ثبوت نہیں بن سکتا۔
آخر میں انہوں نے کہا: اس منبر سے جو باتیں بیان کی جاتی ہیں، وہ شریعتِ اسلام کے دفاع، عوام کے مفاد، اور سب کی بھلائی و نفع کے لیے ہوتی ہیں۔ ہم اپنے آپ کو خیرخواہی اور معاشرے کے اتحاد کا پابند سمجھتے ہیں۔

baloch

Recent Posts

تمام انسان خانۂ کعبہ کی برکات سے مستفید ہوتے ہیں

مفتی محمدقاسم قاسمی نے 5 جون 2026ء کو زاہدان کے نمازِ جمعہ اجتماع میں خانۂ…

3 days ago

دنیا میں تمام گناہوں اور فساد کا سرچشمہ آخرت پر یقین کا نہ ہونا یا اس کی کمزوری ہے

دنیا میں تمام گناہوں اور فساد کا سرچشمہ آخرت پر یقین کا نہ ہونا یا…

1 week ago

ہمیں امید ہے ایران امریکا کے درمیان معاہدے کی کوششیں کامیاب ہوں گی اور جنگ رُک جائے گی

ہمیں امید ہے ایران امریکا کے درمیان معاہدے کی کوششیں کامیاب ہوں گی اور جنگ…

2 weeks ago

حج ایک عظیم عبادت اور غیر معمولی اجتماع ہے

حج اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر اور مسلمانوں کے لیے ایک اہم، بڑا اور…

2 weeks ago

ہم تمام انسانوں کے خیرخواہ ہیں اور ایرانی قوم اور ملک کی بہتری اور فلاح کے بارے میں سوچتے ہیں

ہم تمام انسانوں کے خیرخواہ ہیں اور ایرانی قوم اور ملک کی بہتری اور فلاح…

4 weeks ago

ملک اور قوم کے مفاد میں ‘عادلانہ معاہدہ’ ضروری ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 8 مئی 2026 کو زاہدان میں نمازِ جمعہ کے خطاب…

1 month ago