شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے یکم مئی 2026 کو زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں اور ملک کے معاشی حالات انتہائی بحرانی ہو چکے ہیں۔
زاہدان کے خطیبِ جمعہ نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں علماء پر سکیورٹی کے دباؤ اور صوبے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے بیانات کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس حساس وقت میں اس طرح کا دباؤ اور بیانات اتحاد اور سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے سیستان و بلوچستان میں معتدل اور میانہ رو حکام کے تقرر کا مطالبہ کیا۔
ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری انتہا پر ہیں
زاہدان کے خطیبِ جمعہ کے دفتر کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے کہا: بدقسمتی سے ملک کی معاشی حالت پہلے کبھی اتنی خراب نہیں رہی۔ ایک طرف بیس سالہ سیاسی و معاشی پابندیاں اور دوسری طرف جنگ اور سمندری ناکہ بندی نے ملک کی معیشت اور عوام پر شدید بوجھ ڈال دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں اور ایرانی عوام چیخ اٹھے ہیں۔ ان حالات میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہو گئی ہے اور سب سے زیادہ بوجھ مزدوروں اور دیہاتیوں پر پڑ رہا ہے۔
حکومت اور حکام کو سنجیدہ توجہ دینی چاہیے اور عوام کفایت شعاری سے کام لیں
خطیبِ زاہدان نے تاکید کی کہ یہ صورتحال حکومت اور حکام کی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔ میں عوام کو کفایت شعاری کی تاکید کرتا ہوں۔ خواتین سے بھی گزارش ہے کہ وہ حالات کو سمجھتے ہوئے قناعت اختیار کریں تاکہ زندگی مکمل بند گلی میں نہ پھنس جائے۔ میری دوسری نصیحت یہ ہے کہ ان حالات میں ضرورت مند خاندانوں اور قیدیوں کا خیال رکھا جائے۔
علماء پر سکیورٹی دباؤ اتحاد اور سلامتی پر منفی اثر ڈالتا ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں علماء پر بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ حال ہی میں بعض علماء کو فضول بہانوں اور معمولی مسائل پر مشہد کی خصوصی عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔ یہ مسائل صوبے کے اندر موجود بعض انتہا پسند افراد کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا: یہ انتہا پسند صوبائی حکام اس طرح کے دباؤ سے اتحاد اور سلامتی کی کوئی خدمت نہیں کر رہے، بلکہ اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگرچہ صوبے میں کچھ معتدل حکام بھی موجود ہیں جو مفید ہیں، لیکن بعض حکام سطحی سوچ رکهتے ہیں اور اپنی ذاتی پسند و ناپسند مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
ایران کے ممتاز عالم دین نے متنبہ کیا کہ اگر یہ یکطرفہ دباؤ جاری رہا تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ جنگ کے اپنے دباؤ ہوتے ہیں اس لیے ان حالات میں مزید دباؤ نہ ڈالیں۔
مولانا فضل الرحمن کوہی صرف تنقید کر کے عوام کی بات کرتے تھے؛ ان کا ملک چھوڑنا علاقے کے لیے نقصان ہے
مولانا عبدالحمید نے ضلع سرباز پشامگ کے خطیب جمعہ مولانا فضل الرحمن کوہی کے ملک چھوڑنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی فساد کے پیچھے نہیں رہے بلکہ صرف تنقید کرتے تھے اور عوام کی آواز تھے۔ انہیں دو بار جیل بھیجا گیا اور رہائی کے بعد بھی ان پر دباؤ برقرار رہا۔ ایسے عالم دین کو مجبور کرنا کہ وہ ملک چھوڑ دیں، علاقے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ خیرخواہ لوگوں کی قدر کرنی چاہیے نہ کہ انہیں دیوار سے لگائیں۔
صوبائی عہدیدار کی ذاتی تنقید میں کوئی حقیقت نہیں ہے
مولانا عبدالحمید نے صوبہ سیستان بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے کی جانے والی ذاتی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: کچھ عرصہ سے ایک عہدیدار ذاتی تنقید کر رہا ہے۔ میں عام طور پر ایسی باتوں کا جواب نہیں دیتا لیکن آج کچھ وضاحت پیش کرنا ضروری ہے۔ اس عہدیدار نے جھوٹی رپورٹوں کی بنیاد پر یہ تنقید کی کہ فلاں شخص جنگ شروع ہونے پر گاؤں چلا گیا ہے، جبکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں تمام حکام اپنے دفاتر میں موجود نہیں تھے، میں بھی اپنے دفتر میں نہیں تھا اور لوگوں کے اصرار پر چند دن (جامع) مسجد (مکی) کے قریب (گھر پر) رہا۔
انہوں نے مزید کہا: اس عہدیدار نے ایک ٹویٹ پر بھی تنقید کی جس میں “عادلانہ معاہدے” کی نصیحت کی گئی تھی۔ تنقید کرنا اچھی بات ہے لیکن یہ کہنا کہ آپ دشمنوں سے انصاف کی امید رکھتے ہیں، کسی کے لیے مناسب نہیں۔ ہم نے عادلانہ معاہدے کی بات کی ہے نہ کہ یکطرفہ معاہدے کی، اور عدل و انصاف کی بات ہم زندگی بھر کرتے رہیں گے۔
ملکی حکام صوبے کے انتہا پسند افراد کو تبدیل کریں
زاہدان کے خطیبِ جمعہ نے سیستان و بلوچستان میں معتدل حکام کے تقرر کا مطالبہ کیا اور مرکز کے حکام سے کہا کہ انتہا پسند افراد کو اس صوبے میں نہ بھیجیں۔ حساس حالات کے پیش نظر ان افراد کو یہاں سے ہٹایا جائے۔ اگر صوبہ معتدل لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔
سیستان و بلوچستان کے لوگ سمجھدار ہیں اور انہوں نے کبھی اپنے وطن سے غداری نہیں کی
مولانا نے فرمایا: یہاں کے عوام نے ثابت کیا ہے کہ وہ کبھی اپنے ملک سے غداری نہیں کریں گے۔ بعض حکام کے کہے کے برعکس، لوگوں نے جنگی حالات میں بھی صوبے کی سلامتی کا خیال رکھا۔ جنگی حالات میں ہمیں بدامنی کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ یہ موجودہ دباؤ ہی بدامنی کا سبب بن سکتے ہیں۔
سپریم لیڈر کے نمائندے مقامی اور معتدل لوگوں میں سے ہونے چاہئیں
مولانا عبدالحمید نے آخر میں تاکید کی کہ نئے حالات میں نئے حکام اس طرح کے صوبائی حکام کے بارے میں نظر ثانی کریں۔ میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے کہ جیسے قومی اسمبلی کے ارکان مقامی ہوتے ہیں، ویسے ہی سپریم لیڈر کے نمائندے بھی مقامی لوگوں، لسانی اور مذہبی برادریوں میں سے ہونے چاہئیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: «وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا؛ اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا، اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کر دیے تھے۔» (سورہ مائدہ: 12)۔ اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہے: «وَ مَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ» (سورہ ابراہیم: 4)۔ جس کا ترجمہ ہے: اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا وہ اپنی قوم کی زبان بولتا ہوا بھیجا۔
انہوں نے فرمایا: ہمارے یہاں سیستانی بھائی موجود ہیں جن سے ہماری رشتہ داری ہے۔ لہذا نئے حالات کا تقاضا ہے کہ نمائندے مقامی افراد میں سے لیے جائیں، اگر بلوچ بھائیوں میں سے نہیں تو کم از کم معتدل اور میانہ رو سیستانی بھائیوں میں سے کسی کا انتخاب کیا جائے۔
مفتی محمدقاسم قاسمی نے 5 جون 2026ء کو زاہدان کے نمازِ جمعہ اجتماع میں خانۂ…
دنیا میں تمام گناہوں اور فساد کا سرچشمہ آخرت پر یقین کا نہ ہونا یا…
ہمیں امید ہے ایران امریکا کے درمیان معاہدے کی کوششیں کامیاب ہوں گی اور جنگ…
حج اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر اور مسلمانوں کے لیے ایک اہم، بڑا اور…
ایمان، عملِ صالح، حق اور صبر کی تلقین فلاح و کامیابی کے چار بنیادی محور…
ہم تمام انسانوں کے خیرخواہ ہیں اور ایرانی قوم اور ملک کی بہتری اور فلاح…