اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور ایندھن کی قلت کے باعث غزہ کے دوسرے بڑے اسپتال میں بھی کام بند ہوگیا۔
عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق غزہ کے دوبڑے اسپتالوں الشفا اور القدس میں دواؤں اورایندھن کی قلت کے باعث نئے مریضوں کا داخلہ اور کام بند ہوگیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر نے مزید انسانی جانی نقصان کو روکنے کے لیے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال محفوظ مقامات میں شامل ہوتے ہیں۔ جب اسپتالوں کو قتل گاہ میں تبدیل اور برباد کردیا جائے تو دنیا کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے۔
دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کے خان یونس اسپتال پراسرائیلی حملے میں 13 فلسطینی شہید ہوگئے۔ بمباری سے آس پاس کے مکانات بھی ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
الشفا اسپتال کے سرجن کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے کئی اسپتالوں کو اسرائیلی فوج نے گھیر رکھا ہے اور طبی عملہ اور مریض وار زون کے وسط میں آچکے ہیں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام