اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور ایندھن کی قلت کے باعث غزہ کے دوسرے بڑے اسپتال میں بھی کام بند ہوگیا۔
عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق غزہ کے دوبڑے اسپتالوں الشفا اور القدس میں دواؤں اورایندھن کی قلت کے باعث نئے مریضوں کا داخلہ اور کام بند ہوگیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر نے مزید انسانی جانی نقصان کو روکنے کے لیے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال محفوظ مقامات میں شامل ہوتے ہیں۔ جب اسپتالوں کو قتل گاہ میں تبدیل اور برباد کردیا جائے تو دنیا کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے۔
دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کے خان یونس اسپتال پراسرائیلی حملے میں 13 فلسطینی شہید ہوگئے۔ بمباری سے آس پاس کے مکانات بھی ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
الشفا اسپتال کے سرجن کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے کئی اسپتالوں کو اسرائیلی فوج نے گھیر رکھا ہے اور طبی عملہ اور مریض وار زون کے وسط میں آچکے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…