ممتاز عالم دین، سابق وزیر اعظم پاکستان چودھری محمد علی کے صاحبزادے مولانا ڈاکٹر امجد ہزاروں اشکبار آنکھوں کے ساتھ گلستان جوہر کراچی میں سپرد خاک کردیے گئے۔
مرحوم طویل عرصے سے علیل اور مقامی اسپتال میں آئی سی یو میں داخل تھے، جہاں گزشتہ رات دوران علاج وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
مرحوم کی نماز جنازہ گلستان جوہر میں ان کے قائم کردہ مدرسہ ابن عباس سے متصل پارک میں ادا کی گئی، جس میں دار العلوم کراچی، جامعہ بنوری ٹاون، جامعہ الرشید سمیت کراچی چھوٹے بڑے مدارس کے اساتذہ، علماء، طلبہ، سیاسی و مذہبی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
نماز جنازہ میں جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم مولانا نعمان نعیم، جامعہ اسلامیہ مخزن العلوم کے صدر مولانا ڈاکٹر قاسم محمود بھی شریک ہوئے۔
مرحوم پاکستان کے چوتھے وزیر اعظم چودھری محمد علی (1955۔ 1956) کے صاحبزادے اور امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر تھے۔ انہوں نے لندن سے ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کی اور لیاقت نیشنل اسپتال کے شعبہ میڈیسن کے سربراہ بھی رہےہیں۔
مرحوم نے بڑی عمر میں اپنے شوق سے جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی سے دینی تعلیم حاصل کی اور درس نظامی پاس کیا۔
دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر امجد نے ایک منفرد نصاب تعلیم کے ساتھ گلستان جوہر میں مدرسہ ابن عباس قائم کیا، جو پاکستان کا پہلا مکمل عربک میڈیم مدرسہ ہے۔
ڈاکٹر امجد کو پاکستان میں حجامہ طریقہ علاج متعارف کرانے والوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے طب نبوی پر کئی کتب تصنیف کیں۔ ان کی وفات پر ملک بھر کے جید علماء نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
علمائے کرام نے کہا کہ مولانا ڈاکٹر امجد نے پاکستان میں لڑکوں اور لڑکیوں میں عربی زبان کے فروغ کیلئے جو شاندار خدمات انجام دیں، انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…