زاہدان (سنی آن لائن) ایرانی بلوچستان میں واقع جامعہ دارالعلوم زاہدان کے استاذ مولوی امان اللہ سعدی کو سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے چابہار شہر سے تیس مارچ کو گرفتار کیا ہے۔
مولوی امان اللہ سعدی نے دینی مدارس کے تعطیلات آغاز ہونے کے بعد ساحلی شہر چابہار گئے تھے کہ انہیں ایک حساس ادارے کے اہلکاروں نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
موصوف کے اہل خانہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود اب تک ان کی گرفتاری کی وجہ اور قید کی جگہ نامعلوم ہے۔
اس سے پہلے سکیورٹی فورسز نے جامعہ دارالعلوم زاہدان سے وابستہ تین اساتذہ اور علمائے کرام (مولانا عبدالمجید مرادزہی، مفتی رضا رخشانی اور مولوی عبدالرؤف رخشانی) کو زاہدان شہر سے گرفتار کیا ہے۔ ان کے حالات کے بارے میں کوئی اطلاع دستیاب نہیں ہے۔
سیاسی مسائل کے مبصرین کا خیال ہے دارالعلوم زاہدان کے اساتذہ کی گرفتاری کی اصل وجہ شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید پر دباؤ ڈالنا ہے۔ جامعہ دارالعلوم زاہدان کے صدر و شیخ الحدیث نے گزشتہ چھ مہینوں میں اپنے سیاسی موقف پیش کرتے ہوئے حکومت کی موجودہ پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام