’’ دو مقدس ترین مساجد کے امور کی صدارت عامہ‘‘ نے المسجد الحرام میں آب زم زم کو آلودگی سے بچانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر رکھا ہے۔ یہ جدید خودکار سسٹم پانی نکالتا، صاف کرتا اور تقسیم کرتا ہے۔ المسجد الحرام کی انتظامیہ اس بابرکت پانی کی حفاظت، کنویں سے نکلنے کے بعد اسے آلودگی سے بچانے اور زائرین تک پہنچانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے۔
زمزم کے کنویں سے المسجد الحرام اور مسجد نبوی کے زائرین تک زمزم کے بابرکت پانی کا سفر کئی مراحل سے گزرتا ہے یہ مراحل پاکیزگی اور جراثیم کشی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ زمزم کے کنویں سے کچے پانی کو دو بڑے پمپوں کے ذریعے پمپ کر کے 360 کیوبک میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے نکالا جاتا ہے۔ اس پانی کو کنگ عبداللہ واٹر ڈیولپمنٹ پروجیکٹ میں پمپ کیا جاتا ہے۔ اس پمپ میں پانی کو ذخیرہ کیا جاتا ہے ۔ یہاں جراثیم کشی کا کام بھی انجام پاتا ہے۔ پھر زمزم کے پانی کو زمزم کے ذخیرہ سٹیشن اور شاہ عبد العزیز سبیل سٹیشن روانہ کردیا جاتا ہے۔
زمزم کے پانی کی خصوصیات کو برقرار رکھنے اور ان کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ہر ایک اہم مرحلے سے قبل پانی کے نمونے لے کر اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس بابرکت پانی کو سفر کے تمام مراحل میں نمونے لے کر جانچا اور استعمال کیا جاتا ہے۔ لیے گئے نمونوں کا تجزیہ کا جاتا ہے اور یقینی بنایا جاتا ہے کہ یہ پانی محفوظ اور آلودگی سے پاک ہے۔ ان مراحل میں آب زم زم کی مفت دستیابی کا بھی دھیان رکھا جاتا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…