بين الاقوامی

آسٹریلیا نے مغربی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا

آسٹریلیا نے سابقہ حکومت کے مغربی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو واپس پلٹتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کی حیثیت کو اسرائیل اور فلسطینی عوام کے درمیان امن مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔
غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ آسٹریلیا ’ہمیشہ اسرائیل کا ایک ثابت قدم دوست رہے گا‘ اور وہ دو ریاستی حل کے لیے پرعزم ہے جس میں اسرائیل اور مستقبل کا فلسطین بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر امن کے ساتھ اکٹھے رہیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت ’آسٹریلیا کی ایک منصفانہ اور پائیدار دو ریاستی حل کی طرف پیش رفت کی ذمہ دارانہ کوششوں کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا دوبارہ عہد کرتی ہے‘۔
خیال رہے کہ سابق آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے دسمبر 2018 میں مشرق وسطیٰ سے متعلق کئی دہائیوں پرانی پالیسی کو یہ کہہ کر بدل دیا تھا کہ آسٹریلیا مغربی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے لیکن وہ اپنا سفارت خانہ فوری طور پر وہاں منتقل نہیں کرے گا۔
امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سال قبل یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا، لیکن انہوں نے اس شہر کی وضاحت نہیں کی تھی جس کا مشرقی حصہ یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے بڑے مقدس مقامات پر مشتمل ہے اور فلسطینی اسے اپنے مستقبل کا دارالحکومت دیکھنا چاہتے ہیں۔
پینی وونگ نے صحافیوں کو بتایا کہ اسکاٹ موریسن کے 2018 کے فیصلے نے ’آسٹریلیا کو بین الاقوامی برادری کی اکثریت سے باہر کر دیا‘ اور مسلم اکثریتی پڑوسی ملک انڈونیشیا نے اس پر تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہے کہ اسکاٹ موریسن کے سیاست کھیلنے کے فیصلے کے نتیجے میں آسٹریلیا کی پوزیشن بدل گئی، اور ان تبدیلیوں سے آسٹریلوی کمیونٹی کے بہت سے لوگوں کو تکلیف ہوئی ہے جو ان مسائل کی گہری فکر کرتے ہیں۔’
یاد رہے کہ اسکاٹ موریسن نے 2018 میں سفارت خانے کو تل ابیب سے منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا جس سے کچھ روز قبل سڈنی کے ووٹروں میں ایک مضبوط یہودی نمائندگی کے ساتھ ضمنی انتخاب ہوا تھا، جس میں اس اعلان کے باوجود لبرل پارٹی ہار گئی تھی۔
دی گارجین نے سب سے پہلے پیر کو محکمہ خارجہ اور تجارت کی ویب سائٹ سے مغربی یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت کہنے والے بیان میں تبدیلی کی اطلاع دی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم انتھونی البانی کی کابینہ نے کیا ہے۔

اسرائیل کا ردعمل
اسرائیلی وزیر اعظم یائر لاپڈ نے اس اقدام کو ’جلد باز ردِ عمل‘ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہم صرف امید کر سکتے ہیں کہ آسٹریلوی حکومت دیگر معاملات کو زیادہ سنجیدگی اور پیشہ ورانہ طریقے سے سنبھالے گی۔
وزیراعظم نے اپنے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ’یروشلم اسرائیل کا ابدی اور متحدہ دارالحکومت ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔‘
اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے باضابطہ احتجاج درج کرانے کے لیے آسٹریلوی سفیر کو طلب کیا ہے۔
یروشلم پر اسرائیلی اور فلسطینی دونوں ہی دعویٰ کرتے ہیں اور زیادہ تر غیر ملکی حکومتیں اسے کسی بھی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے سے گریز کرتی ہیں۔

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

7 days ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago