زاہدان کے مرکزی اجتماع برائے نماز جمعہ کے بعد سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں درجنوں افراد کی شہادت اور زخمی ہونے کے بعد خطیب اہل سنت زاہدان کے دفتر نے بیان دیتے ہوئے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ ایک الگ بیان میں سرکاری اور نیم سرکاری خبررساں اداروں کی غلط خبروں کی تردید آئی ہے جنہوں نے دعویٰ کیا تھا مولانا عبدالحمید نے احتجاج کرنے والوں سے سختی نمٹنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، مذکورہ بیان میں تیس ستمبر دوہزار بائیس کو پیش آنے والے واقعے کی بعض تفصیلات آئی ہیں۔ بیان کے مطابق، نماز جمعہ ختم ہونے کے بعد کچھ نوجوانوں نے نعرے بازی کی ہے اور بعد میں ان کی ایک قلیل تعداد جامع مسجد کے قریب واقع پولیس سٹیشن پر پتھراؤ کیا ہے، چنانچہ سکیورٹی فورسز نے ان پر فائر کھولی ہے۔
اس بیان میں آیاہے نمازی لوگوں پر نماز جمعہ قائم کرنے کی جگہ پر فائرنگ ہوئی ہے اور مجموعی طورپر درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔
بیان کے آخر میں آیاہے: عوام سے اپیل کی جاتی ہے پرامن رہیں اور امن کی صورتحال خراب ہونے نہ دیں۔ صوبائی اور قومی حکام اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرائیں جس میں اتنے نہتے شہریوں کا خون بہاگیا۔
خطیب اہل سنت کے دفتر نے سرکاری اور نیم سرکاری نیوز ایجنسیز میں مولانا عبدالحمید کے حوالے سے شائع رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے اور ان کے بیانات اور خبروں کے لیے آفیشل ویب سائٹ اور اس کے سوشل میڈیا پیجز کا حوالہ دیا ہے۔
آخری اطلاعات کے مطابق، مولانا عبدالحمید کے دفتر نے پینتالیس شہدا کے نام رجسٹر کروایاہے۔ جبکہ شہدا کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…