Israeli artillery fires towards Gaza, near the Israel and Gaza border in the morning of Sunday, July 27, 2014. Hamas on Sunday agreed to observe a 24-hour truce in Gaza after initially rejecting a similar Israeli offer, as fighting resumed and the two sides wrangled over the terms of a lull that international diplomats had hoped could be expanded into a more sustainable truce. Hamas spokesman Sami Abu Zuhri said the truce would go into effect at 2 p.m. (1100 GMT) Sunday. But shortly after the truce was to have started warning sirens wailed in southern Israel and the military said three rockets landed in the area, without causing casualties or damage. (AP Photo/Tsafrir Abayov)
اسرائیلی فوج نے فلسطین کے مغربی کنارے میں فائرنگ کرکے 4 فلسطینوں کو شہید کردیا۔
ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ فلسطینیوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی، بم پھینکے گئے، اسرائیل پولیس کے مطابق اسرائیل کے خفیہ کمانڈوز کو جنین کے علاقے میں اُن فلسطینیوں کو گرفتار کرنے کے لیے بھیجا گیا جن پر حملہ کرنے کا شبہ تھا۔
اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں گرفتاریوں اور فوجی کارروائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کے باعث جنین اور نابلس میں جھڑپیں عام ہو گئی ہیں، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حملے میں تقریباً 40 فلیسطینی زخمی ہوئے ہیں۔
اسلامی جہاد اور الاقصیٰ گروپ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں میں ان کے 4 افراد مارے گئے ہیں، ہلاک افراد میں سے ایک شخص فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی سروسز کے لیے کام کرتا تھا، یہ اتھارٹی مغربی کنارے پر محدود خودمختاری کے لیے کام کرتی ہے۔
مقامی عسکریت پسندوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کو ایک بیان میں کہا کہ ’ہمیں سیکیورٹی سروسز کے ارکان کی اشد ضرورت ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’لڑائی کا اعلان کرو، ہم تمہارے سپاہی ہوں گے، یہ دشمن صرف اسلحے کی زبان سمجھتے ہیں‘۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…