افغانستان کے دارالحکومت کی جامع مسجد ’’وزیر اکبر خان‘‘ میں ہونے والے دھماکے میں 9 نمازی شہید اور 41 زخمی ہوگئے۔
افغان میڈیا کے مطابق کابل کی وزیر اکبر خان جامع مسجد میں اس وقت زوردار دھماکا ہوا جب نمازی مسجد سے باہر آرہے تھے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور عمارتیں لرز گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد کے دروازے کے قریب بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اُڑا گیا۔ طالبان حکام نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کاموں کا آغاز کیا جس کے دوران 50 کے قریب زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
افغانستان کے خبر رساں ادارے ’’طلوع نیوز‘‘ کے مطابق مسجد دھماکے میں 9 نمازی شہید اور 41 زخمی بھی ہوئے۔ 6 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے سبب شہید ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
تاحال کسی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم طالبان کے حکومت قائم کرنے کے بعد سے ایسی وارداتوں میں داعش خراسان ملوث رہی ہے اور طالبان حکومت نے ان کے خلاف کریک ڈاؤن آپریشن بھی کیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی نماز جمعہ کے دوران مسجد میں بم دھماکے میں 50 نمازی شہید ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی تھی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان