مغربی کنارے کے شہر جینن میں اسرائیلی فوج نے گرفتاری کے لیے ایک گھر پر چھاپہ مارا جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 2 فلسطینی نوجوان شہید اور ایک فوجی اہلکار مارا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جینن میں اسرائیلی فوج کی چھاپہ مار ٹیم ایک گھر پر پہنچی جہاں انھیں مزاحمت کرنا پڑا۔ جھڑپ میں احمد ایمن اور عبد الرحمان ہانی نامی نوجوان شہید ہوگئے جن کی عمریں بالتریب 23 اور 22 سال تھی۔
فائرنگ کے تبادلے میں اسرائیلی فوج کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوا تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ نوجوانوں کی لاشیں تاحال سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔
جدوجہد آزادیٔ فلسطین کی نمائندہ تنظیم الفتح نے شہید ہونے والے نوجوانوں کو اپنے مجاہد قرار دیتے ہوئے بتایا کہ شہید نوجوان کا تعلق تنظیم کی شاخ الااقصیٰ شہدا بریگیڈ سے تھا اور ان میں سے ایک فلسطین اتھارٹی کے لیے بطور انٹیلی جنس آفیسر بھی کام کرتا تھا۔
خیال رہے کہ جینن اور نابلس میں اسرائیلی فوج کی چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز اسرائیلی سرزمین پر ہونے والے چاقو بردار حملوں کے بعد ہوا جس میں درجنوں یہودی مارے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ چاقو سے شہریوں پر حملے میں جینن کے پناہ گزین میں مقیم فلسطینی نوجوان ملوث ہیں جن کی گرفتاری کے لیے وہ چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان