زاہدان (سنی آن لائن) جامعہ دارالعلوم زاہدان کے نوجوان استاذ اور زاہدان کے معروف عالم دین مولوی آصف سارانی کی لاش دو دن لاپتہ رہنے کے بعدبدھ سات ستمبر کو زاہدان کے مضافات سے برآمد ہوئی۔ ان کی شہادت کی اصل وجوہات تا حال نامعلوم ہیں۔
سنی آن لائن کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، مولوی آصف سارانی دوہزار دس کو جامعہ دارالعلوم زاہدان سے فارغ التحصیل ہوئے، پھر اسی جامعہ میں تخصص فی الافتا کیا اور دورہ صحافت و فارسی ادب میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنے مادر علمی کے مختلف شعبوں میں خدمت کی اور ان کی شہادت جب واقع ہوئی، دارالتربیہ دارالعلوم زاہدان میں مصروفِ خدمت تھے۔
مولوی آصف سارانی انتہائی ملنسار، نرم دل، مہربان ، خوش اخلاق اور متقی عالم دین تھے۔ان کے قتل کی وجوہات تا حال نامعلوم ہیں۔
مولوی سارانی کی نماز جنازہ حافظ محمد اسلام ملازئی، دارالعلوم زاہدان کے استاذو ناظم تعلیمات کی امامت میں نماز جمعہ کے بعد ادا کی گئی۔ مرحوم کی تدفین زاہدان کے مرکزی قبرستان میں ہوئی جہاں دارالعلوم کے سینئر اساتذہ (مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی اور مولانا عبدالغنی بدری) سمیت متعدد سیاسی و قبائلی شخصیات نے شرکت کی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…