چین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں تاکہ افغانستان کی نئی حکومت کو اعتماد ملے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے اقوام متحدہ میں مندوب ژانگ جون نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر کہا ہے کہ عالمی برادری نئی انتظامیہ کو اعتماد اور رہنمائی فراہم کرنے کے لیے تعلقات بحال کرے۔
چین کے اقوام میں مندوب ژانگ جون نے مزید کہا کہ افغانستان کی سابق قیادت کو بھی اپنے تجربات سے ملک کو فائدہ پہنچانا چاہیئے۔ حکومت ختم ہوجانے سے ان کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوجاتیں۔
چینی مندوب نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ منجمد افغان فنڈز کو فی الفور ملک کے مرکزی بینک کے حوالے کردینا چاہیئے۔ کسی بھی ملک کے پاس افغانستان کے اثاثے منجمد کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
خیال رہے کہ چین نے گزشتہ برس اگست میں قائم ہونے والی طالبان حکومت کو تاحال تسلیم نہیں کیا ہے تاہم چین کے ان کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان