قاہرہ: مصر کے ایک بڑے چرچ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی جس میں بری طرح جھلس کر 41 افراد ہلاک اور 55 شدید زخمی ہوگئے۔
عرب میڈیا کے مطابق مصر کے علاقے الجیزہ میں قبطی عیسائیوں کے ایک بڑے چرچ میں دعائیہ اجتماع تھا جس میں 5 ہزار سے زائد افراد شریک تھے۔ اچانک چرچ میں آگ بھڑک اُٹھی جس نے پورے چرچ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
خوفناک آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کسی کو چرچ سے باہر نکلنے کا موقع نہیں مل سکا۔ آگ چرچ کے داخلی راستے پر لگی جس سے بھگدڑ مچ گئی اور درجنوں افراد پیروں تلے کچلے جانے کے باعث زخمی ہوگئے۔
آگ بجھانے میں فائر بریگیڈ کی 15 گاڑیوں نے حصہ لیا جب کہ 30 ایمبولینسوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
آتشزدگی میں 41 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی گئی جب کہ 55 افراد جھلسی ہوئی حالت میں زیر علاج ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چرچ کے پادری بھی شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ لگتی ہے تاہم تفتیش مکمل ہونے تک کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام