بين الاقوامی

امریکا نے حماس سے وابستہ ایک شخصیت،3مالی معاونین اور 6اداروں پرپابندیاں عایدکردیں

امریکا نے غزہ کی حکمران فلسطینی جماعت حماس کے لیے مالی بندوبست کرنے والے ایک شخص ،تین مالیاتی سہولت کاروں اور چھے کمپنیوں کے نیٹ ورک پرپابندیاں عاید کردی ہیں۔ان پر الزام عایدکیا گیا ہے کہ انھوں نے امریکا کے نامزد دہشت گرد گروہ کے لیے رقوم مہیّاکی تھیں۔
امریکا کے محکمہ خزانہ نے منگل کوایک بیان میں کہا ہے کہ ان پابندیوں میں حماس کے سرمایہ کاری دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس کے پاس 50 کروڑڈالر سے زیادہ کے اثاثے ہیں۔نئی پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیاں سوڈان، ترکی، سعودی عرب، الجزائر اور متحدہ عرب امارات میں کام کررہی ہیں۔
دہشت گردوں کی مالی معاونت اور مالیاتی جرائم کے لیے خزانہ کی معاون وزیرایلزبتھ روزن برگ نے اسرائیل میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کی کوششوں پرتبادلہ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ آج کی کارروائی میں ان افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو حماس کے لیے رقوم کا بندوبست کرتی تھیں اورانھیں منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہاہے۔
انھوں نے مزیدکہا کہ حماس نے غزہ کوغیرمستحکم کرتے ہوئے اپنے خفیہ سرمایہ کاری پورٹ فولیو کے ذریعے بھاری آمدن حاصل کی ہے جبکہ غزہ کے مکینوں کو سخت معاشی حالات کا سامنا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے حماس کے جس مالیاتی عہدہ دارکواپنی ممنوعہ فہرست میں شامل کیا ہے،ان کا نام عبداللہ یوسف فیصل صابری ہے۔ وہ کویت میں مقیم اردنی شہری ہیں۔انھیں محکمہ خزانہ نے 2006 سے حماس تنظیم کی ایک اہم شخصیت قراردیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے خطے میں حماس کی رسائی بڑھانے میں کردارادا کیا ہے۔
پابندیوں کی فہرست میں شامل کیے جانے والے تین مالیاتی سہولت کاروں میں اردن کے شہری احمد شریف عبداللہ عودہ 2017 تک حماس کے بین الاقوامی سرمایہ کاری پورٹ فولیوکے انچارج تھے۔اسامہ علی حماس کی کارندہ تھےاور گروپ کے سینیررہنماؤں سے براہ راست رابطے میں ہوتے تھے۔
تیسرے سہولت کار ترکی میں مقیم اردنی شہری ہشام یونس یحییٰ قفشیہ ہیں۔انھوں نے علی کے نائب کے طور پر خدمات انجام دیں اور حماس کے سرمایہ کاری پورٹ فولیو سے منسلک مختلف کمپنیوں کی جانب سے فنڈز کی منتقلی میں اہم کردارادا کیا ہے۔
محکمہ خزانہ نے جن کمپنیوں کے خلاف پابندیوں کی منظوری دی ہے، ان میں الجزائر میں قائم صدرکمپنی، متحدہ عرب امارات میں قائم اتقان رئیل اسٹیٹ جے ایس سی، سوڈان میں قائم ایگروگیٹ ہولڈنگ، سوڈان میں قائم الرواد رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ، ترکی میں قائم ٹرینڈ جی وائی او اور سعودی عرب میں قائم آندہ کمپنی شامل ہیں۔

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

7 days ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago