اسرائیلی حکام نے شہروں کے نام یہودیانے کے بعد ایک اور تازہ جرم کا ارتکاب شروع کیا ہے۔
مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں تاریخی ابراہیم مسجد کی سیڑھیوں کے حصے مسمار کرنا شروع کردیے ہیں۔
حماس کے ترجمان عبد الطیف القانو نے مغربی کنارے کے فلسطینیوں سے کہا ہے کہ وہ اس پر احتجاج کریں۔ یہ عمل اب مسجد ابراہم کے تاریخی مقامی کی بھی یہودیانے کے جرم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کسی کو ابراہیم مسجد کے حصوں کو کسی بھی بہانے نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تازہ کارروائی مسجد کی تاریخی سیڑھیوں کو گراکر برقی زینے کی آڑ میں کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیفتالی بینٹ نے مارچ 2020ء میں فلسطینی زمینوں کو زبردستی قبضے کرنے کا قانون پاس کیا تھا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان