افغانستان میں طالبان نے لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول کھولنے سے متعلق اچھی خبر جلد سنانے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دیئے ایک انٹرویو میں افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے بتایا کہ لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول کھولنے سے متعلق اچھی خبر کا جلد اعلان کرینگے، انہوں نے کہا کہ ہم میں ایسا کوئی نہیں جو خواتین کی تعلیم کے خلاف ہو۔
افغان وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان میں لڑکیاں پرائمری تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکول جا رہی ہیں البتہ ہائی اسکولنگ سسٹم میں لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے حوالے سے میکنزم بنارہے ہیں۔
سراج الدین حقانی نے مزید کہا کہ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے درس گاہوں میں لباس افغان ثقافت اور اسلامی قوانین اور اصولوں کے مطابق ہی ہوگا۔
اس سے قبل رواں سال مارچ کے مہینے میں طالبان نے اسکول، کالجز کھولنے کے چند گھنٹوں بعد ہی بند کروادیئے گئے تھے۔
واضح رہے کہ اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان نے خواتین سے کہا تھا کہ وہ حجاب لیں جس میں سر کو ڈھانپا جاتا ہے جبکہ چہرے کو کھلا رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم رواں ماہ مئی کے آغاز پر طالبان کی جانب سے خواتین کو مکمل برقع اوڑھنے کی ہدایت کی گئی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان