افغانستان کے شہر مزار شریف کی مسجد میں دھماکے سے اب تک پانچ افراد جاں بحق اور کم از کم 65 زخمی ہوگئے۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان کمانڈر محمد آصف وزیری نے بتایا کہ دھماکا اہل تشیع کی مسجد کے اندر ہوا لیکن فی الحال دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔
دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے افغانستان کے شہر مزار شریف کی مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے زیاں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے ہمسایہ ملک افغانستان میں امن کا خواہاں رہا ہے۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل کابل میں اسکول کے باہر تین دھماکے ہوئے تھے جن میں بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان