بھارت کی 4ریاستوں میں مسلم کش فسادات میں ایک شخص ہلاک اوردرجنوں زخمی ہوگئے۔
بھارتی ریاستوں مدھیہ پردیش، گجرات،جھاڑکھنڈ اورمغربی بنگال میں ہندوانتہاپسندوں نے مذہبی ریلی کے دوران مسلمانوں کے گھروں اوردکانوں پرحملے کئے اورلوٹ مارکے بعد آگ لگا دی۔
ہندوانتہاپسندوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے گھروں میں گھس کرخواتین سے بدتمیزی بھی کی اورمردوں کوتشدد کا نشانہ بنایا۔مسلم کش فسادات میں ایک شخص ہلاک اوردرجنوں زخمی ہوگئے۔
مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔گجرات میں مسلمانوں کی املاک اورگھروں پرحملے جاری ہیں۔
ہندوانتہاپسندوں کی حمایتی پولیس نے ہندوؤں کے حملے روکنے کے بجائے متعدد مسلمانوں کوگرفتارکرلیا۔
دوسری جانب دہلی کی جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے گوشت سے بنی ڈشز کھانے پرپابندی عائد کردی گئی۔ پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمان طلبا پرپولیس کے تشدد سے 16طلبا زخمی ہوگئے۔ متعدد مسلمان طلبا کوگرفتاربھی کرلیا گیا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان