زاہدان (سنی آن لائن)اہل سنت ایران کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما نے اسلامی امارت افغانستان کے رہبر کو خط لکھتے ہوئے اسلام میں مردوں اور عورتوں کے لیے طلب علم و دانش کی تاکید کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان میں لڑکیوں کے ہائی سکولز کھولنے کوافغان قوم، حکومت اور اسلام کے مفادات کے مطابق قرار دیا۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ میں شائع خبر میں اس خط کے بعض مضامین شائع ہوچکے ہیں۔
ایرانی بلوچستان کے بااثر عالم دین کے خط میں قائد امارت اسلامی افغانستان کے نام آیاہے: ”دنیا کے موجودہ حالات میں تعلیم لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ضروری ہے اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، اسلامی شریعت میں علم و دانش کے حصول پر سب کو یکسان تاکیداور نصیحت کی گئی ہے۔“
جامعہ دارالعلوم زاہدان کے صدر نے افغانستان میں لڑکیوں کے اسکولز کی بندش کے منفی اثرات اور نتائج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھاہے: اس موضوع کے حل فوری تدبیر سے ممکن ہے۔ لڑکیوں کے ہائی سکولز کو کھولنا افغانستان کی قوم، حکومت اور مجموعی طورپر اسلام کے مفادات کے مطابق ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید