زاہدان (سنی آن لائن)اہل سنت ایران کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما نے اسلامی امارت افغانستان کے رہبر کو خط لکھتے ہوئے اسلام میں مردوں اور عورتوں کے لیے طلب علم و دانش کی تاکید کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان میں لڑکیوں کے ہائی سکولز کھولنے کوافغان قوم، حکومت اور اسلام کے مفادات کے مطابق قرار دیا۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ میں شائع خبر میں اس خط کے بعض مضامین شائع ہوچکے ہیں۔
ایرانی بلوچستان کے بااثر عالم دین کے خط میں قائد امارت اسلامی افغانستان کے نام آیاہے: ”دنیا کے موجودہ حالات میں تعلیم لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ضروری ہے اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، اسلامی شریعت میں علم و دانش کے حصول پر سب کو یکسان تاکیداور نصیحت کی گئی ہے۔“
جامعہ دارالعلوم زاہدان کے صدر نے افغانستان میں لڑکیوں کے اسکولز کی بندش کے منفی اثرات اور نتائج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھاہے: اس موضوع کے حل فوری تدبیر سے ممکن ہے۔ لڑکیوں کے ہائی سکولز کو کھولنا افغانستان کی قوم، حکومت اور مجموعی طورپر اسلام کے مفادات کے مطابق ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…