زاہدان (سنی آن لائن) ایران کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے سنی علمائے کرام نے اسلامی فقہ اکیڈمی کے سالانہ اجلاس میں اسلامی تکافل انشورنس اور شادی کے لیے بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے قرضے کے بارے میں گفتگو کی۔
سنی آن لائن کے نامہ نگاروں کے مطابق، مذکورہ اجلاس جامعہ دارالعلوم زاہدان کے احاطے میں بروز بدھ اور جمعرات (19-20 جنوری 2022ء) منعقد ہوا۔
اجلاس کی آخری نشست میں طے پایا کہ اسلامی تکافل کو مروجہ انشورنس کی جگہ استعمال کرنا چاہیے، البتہ تکافل کی شرائط کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے جو اسلامی فقہ اکیڈمی کی جانب سے اعلان ہوچکی ہیں۔
شادی قرضہ کے بارے میں طویل گفتگو اور تبادلہ خیال کے بعد شرکائے اجلاس کسی واحد رائے پر متفق نہ ہوسکے، لہذا جب تک متفقہ رائے شائع ہوتی ہے، بینک اور مالی ادارے سودی قرضوں سے بچ کر اپنے ایسے قرضوں کو حقیقی مرابحہ کی شکل میں عوام کو فراہم کریں۔
اسلامی فقہ اکیڈمی اہل سنت ایران کی فقہی مجلس ہے جو جامعہ دارالعلوم زاہدان کے زیرِ اہتمام سرگرم ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید