زاہدان (سنی آن لائن) ایران کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے سنی علمائے کرام نے اسلامی فقہ اکیڈمی کے سالانہ اجلاس میں اسلامی تکافل انشورنس اور شادی کے لیے بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے قرضے کے بارے میں گفتگو کی۔
سنی آن لائن کے نامہ نگاروں کے مطابق، مذکورہ اجلاس جامعہ دارالعلوم زاہدان کے احاطے میں بروز بدھ اور جمعرات (19-20 جنوری 2022ء) منعقد ہوا۔
اجلاس کی آخری نشست میں طے پایا کہ اسلامی تکافل کو مروجہ انشورنس کی جگہ استعمال کرنا چاہیے، البتہ تکافل کی شرائط کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے جو اسلامی فقہ اکیڈمی کی جانب سے اعلان ہوچکی ہیں۔
شادی قرضہ کے بارے میں طویل گفتگو اور تبادلہ خیال کے بعد شرکائے اجلاس کسی واحد رائے پر متفق نہ ہوسکے، لہذا جب تک متفقہ رائے شائع ہوتی ہے، بینک اور مالی ادارے سودی قرضوں سے بچ کر اپنے ایسے قرضوں کو حقیقی مرابحہ کی شکل میں عوام کو فراہم کریں۔
اسلامی فقہ اکیڈمی اہل سنت ایران کی فقہی مجلس ہے جو جامعہ دارالعلوم زاہدان کے زیرِ اہتمام سرگرم ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…