ایرانی بلوچستان کے شہر سوران کے مضافات میں المناک ٹریفک حادثے میں ممتاز نوجوان خطیب اور عالم دین مولوی عبدالعزیز ملازئی ولد مولانا عبدالمجید ملازئی (مہتمم جامعہ عثمانیہ یوسف گوٹھ کراچی) سمیت کم از کم چار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
سنی آن لائن کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ انیس دسمبر کی شام کو پیش آیا ہے جس میں دو کاریں آپس میں ٹکڑانے سے جھلس چکی ہیں۔ کاروں میں سوار افراد پھنسنے کی وجہ سے آگ کی نذر ہوگئے ہیں۔ نماز جنازہ آج شام کو سراوان کے نواحی علاقہ سرجو کی عیدگاہ میں ادا کی جائے گی۔
مولوی عبدالعزیز سراوان کی جامع مسجد نور کے نائب خطیب تھے۔ ان کے والد مولانا عبدالمجید ملازئی (کنارکی) بلوچستان میں اپنی بلوچی تقریروں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ مولانا عبدالمجید گزشتہ چند سالوں سے کراچی میں رہتے ہیں اور یوسف گوٹھ کے علاقے میں واقع ان کا دینی مدرسہ کراچی کے ممتاز مدارس میں شمار ہوتاہے۔
یاد رہے اس سے چند گھنٹے پہلے، صوبہ سیستان بلوچستان ہی سے تعلق رکھنے والے بلوچ عالم دین مولانا اللہ داد سارانی بھی طویل علالت کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ مولانا سارانی سیستان کے دینی ادارہ تعلیم القرآن شندول کے مہتمم اور استاذ تھے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…