آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مسلمان خاتون کو ایک خاتون نے حجاب کی وجہ سے نہ صرف دہشت گرد کہہ کر پکارا بلکہ انھیں زدوکوب بھی کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بارا بولاط نامی خاتون کو بس اسٹینڈ پر مقامی خاتون نے ہراساں کیا۔ حجاب پہننے پر بارا بولاط کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنایا گیا اور غلیظ زبان استعمال کی گئی۔
مسلم خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ وہ خاتون مسلسل یہی کہے جارہی تھیں میں اپنے وطن ترکی واپس چلا جاؤں کیوں کہ مجھ جیسی خاتون کا ویانا میں ہونا اچھا نہیں ہے۔ وہ مجھے دہشت گرد بھی کہتی رہیں۔
بارا بولاط نے مزید کہا کہ میں حیران ہوں تعصب میں کوئی اتنا اندھا کیسے ہوسکتا ہے۔ میں ترکی سے نہیں ہوں بلکہ میری پیدائش یہی کی ہے اور میں پلی بڑھی بھی اسی ملک میں ہوں، یہ میری سر زمین ہے۔
مسلم خاتون نے ہراساں کرنے والی خاتون کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام