سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اور کورونا وبا کے بہانے مقبوضہ کشمیر کی بند کی گئی بڑی مساجد کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے فوری طور پر کھولا جائے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے نماز جمعہ کے لیے جامع مساجد کو کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی اور کورونا وبا کے بہانے مذہبی آزادی پر قدغن کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
سابق وزیرِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ وادی کی بڑی مساجد کو سیکیورٹی اور کورونا وائرس کے نام پر بند رکھنے کا اب کوئی جواز برقرار نہیں رہتا جب کہ حکومت خود دعویٰ کرتی ہے ہے کہ حالات نارمل اور کنٹرول میں ہیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہیں کھول دی گئی ہیں جب کہ عوامی اجتماعات جاری ہیں اور تقریبات کا بھی انعقاد ہورہا ہے تو مساجد کیوں بند ہیں اس لیے پوری وادی اور بالخصوص درگاہ حضرت بل اور سری نگر کی جامع مسجد کو فوری طور پر نماز جمعہ کے لیے کھولا جائے۔
واضح رہے کہ مودی سرکار نے کالے قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وادی کو وفاق کے ماتحت حصوں میں تقسیم کردیا تھا اور عوامی احتجاج کو روکنے کے لیے حریت پسند رہنماؤں سمیت سابق وزرائے اعلیٰ کو نظر بند کردیا تھا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان