بھارت میں انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور حکومت میں ایک اور تاریخی مسجد کو ریاستی غنڈوں نے شہید کردیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر فرید آباد کی بلال مسجد کو بھاری مشینری کے ذریعے مسمار کیا جا رہا ہے جب کہ اس موقع پر پولیس اہلکار بھی موجود ہیں۔
میونسپل کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ فرید آباد کے کوری گاؤں کی بلال مسجد جنگلات کی زمین پر تعمیر کی گئی تھی جسے سپریم کورٹ کے 19 فروری 2021 کے احکامات کی تعمیل میں مسمار کیا گیا ہے۔
تاہم مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تجاوزات ہٹانے کے نام پر صرف غریبوں کی املاک اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے جب کہ اسی محکمہ جنگلات کی زمین پر اب بھی غیرقانونی طور پر قائم فارم ہاؤس اور تجارتی ڈھانچوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔
اس سے قبل بھارتی سپریم کورٹ تاریخی بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا متنازع فیصلہ دے چکی ہے۔ مودی سرکار میں مذہبی آزادی پر قدغن ہے اور اقلیتوں کی زندگی کو اجیرن بنادیا گیا ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید