غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان حکومتی وفد کی قیادت افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ اور طالبان وفد کی قیادت ملا عبدالغنی برادر کررہے ہیں۔
دوحہ مذاکرات میں سابق صدر حامد کرزئی اور متعدد اعلٰی شخصیات بھی شرکت کررہی ہیں۔ عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے تاہم مذاکرات کی میز پر امن کی اشد ضرورت ہے، امید ہے کہ طالبان ان مذاکرات کو امن کے موقع کے طور پر دیکھیں گے اور اس بات کو سمجھیں گے کہ زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کرنے سے امن قائم نہیں ہوسکتا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں بھی آج سے تین روزہ افغان امن کانفرنس ہونی تھی جو افغان صدر کی درخواست پر ملتوی کردی گئی۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام