غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان حکومتی وفد کی قیادت افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ اور طالبان وفد کی قیادت ملا عبدالغنی برادر کررہے ہیں۔
دوحہ مذاکرات میں سابق صدر حامد کرزئی اور متعدد اعلٰی شخصیات بھی شرکت کررہی ہیں۔ عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے تاہم مذاکرات کی میز پر امن کی اشد ضرورت ہے، امید ہے کہ طالبان ان مذاکرات کو امن کے موقع کے طور پر دیکھیں گے اور اس بات کو سمجھیں گے کہ زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کرنے سے امن قائم نہیں ہوسکتا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں بھی آج سے تین روزہ افغان امن کانفرنس ہونی تھی جو افغان صدر کی درخواست پر ملتوی کردی گئی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان