طالبان نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے امن معاہدے کے تحت یکم مئی تک افغانستان سے انخلا نہ کیا تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی دارالحکومت ماسکو میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے پریس کانفرنس میں امریکا کو ’’امن معاہدے‘‘ کی پاسداری کے لیے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغانستان سے رواں برس یکم مئی تک غیر ملکی افواج کے انخلا کا عمل کو مکمل نہ ہوا تو امریکا سنگین نتائج کے لیے تیار رہے۔
ترجمان طالبان نے مزید کہا کہ امید ہے نئے امریکی صدر معاہدے سے انحراف نہیں کریں گے اور افغانستان سے اپنی اور نیٹو افواج کو مقررہ تاریخ تک واپس بلالیں گے تاکہ ہم افغانستان کے مسئلے کے حل اور پُرامن تصفیے کے متفقہ سیاسی روڈ میپ تک پہنچ سکیں جس سے ایک مستقل اور جامع جنگ بندی ممکن ہوسکتی ہے۔
سہیل شاہین نے امریکی صدر جوبائیڈن کے فوجی انخلا کی آخری تاریخ میں توسیع کے امکان کے جواب میں کہا کہ یکم مئی کے بعد بھی امریکی فوجیوں کا انخلا نہ ہوا تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی تصور ہوگا اور پھر ہم بھی معاہدے سے آزاد ہوں گے۔
واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان گزشتہ برس طے پانے والے امن معاہدے کے تحت یکم مئی 2021 تک امریکی اور نیٹو افواج کو افغانستان سے واپس چلے جانا تھا اور اس وقت تک طالبان نے غیرملکی افواج پر حملے نہ کرنے کی ضمانت دی تھی۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…