ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ امریکا پابندیاں اٹھائے ہم جوہری پروگرام سے متعلق اقدامات واپس لینے کے لیے تیار ہیں۔
امریکا کی جانب سے ایران سے جوہری معاہدہ میں شمولیت کے اشارہ کے بعد ایران نے بھی معاہدہ کی شرائط پر مکمل عمل درآمد کا عندیہ دیا ہے۔ ٹوئٹر پر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ اگر امریکا تمام پابندیاں اٹھا دے تو ایران فوری طور پر جوہری پروگرام سے متعلق تمام اقدامات واپس لے لیگا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ایران کے سینیئر حکام نے مسئلہ کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تہران امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق ڈیل پر غور کررہاہے لیکن امریکا سب سے پہلے خود معاہدے میں واپس آنے کا اعلان کرے۔
گزشتہ روز واشنگٹن کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار سے باز رکھنے کے لیے عالمی قوتوں امریکا، برطانیہ، روس، چین، فرانس اور جرمنی نے 2015 میں ایک معاہدہ کیا تھا جس سے 2018 میں صدر ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر دستبردار ہو کر ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…