ترکی نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی ریاست کی مجرمانہ مداخلت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی غنڈہ گردی اور خطے میں امن بقائے باہمی کی ثقافت کو نقصان پہنچانا ہے۔
جمعرات کے روز ایک ورچوئل کانفرنس سے خطاب میں ترک وزیر برائے مذہبی امور علی ارباش نے کہا ہے کہ ترکی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی مداخلت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہم اسرائیلی ریاست کی مذہبی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں مسترد کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں ذرائع ابلاغ نے بتایا تھا کہ اسرائیل نے مقام براق میں کھدائیاں شروع کی ہیں۔ اس کےعلاوہ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں کیمروں کی تنصیب کے لیے سروے کیا ہے جس پر فلسطینی عوام میں شدید غم وغصے کی فضا پائی جا رہی ہے۔
علی ارباش نے کہا کہ ترک قوم اور ترک حکومت فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہے اور ہم سب قبلہ اول کے محافظ ہیں۔ ہم قبلہ اول کے دفاع کے لیے اپنی سرگرمیاںجاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی سازشوں کا مقصد مسجد اقصیٰ کو زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کرنا اور مسجد اقصیٰ کے تاریخی تشخص کو نقصان پہنچانا ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار